کشمیر کے متعلق جو بات کی دلیل سے کی، اپنے بیان پر قائم ہوں، خواجہ آصٖف

Jun 24, 2026 | 17:08:PM
 کشمیر کے متعلق جو بات کی دلیل سے کی، اپنے بیان پر قائم ہوں، خواجہ آصٖف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میں کشمیر کے متعلق اپنے بیان پر قائم ہوں۔ میں نے دلیل کی  بنا پر بات کی۔ صرف برتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ کوئی کشمیری یا پاکستانی نہیں بنتا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے  قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا،  کشمیر سے متعلق میں نے جو بیانات دیئے،  میں نے اسکا جواب دیا اور میں نے جو بات کی اسکی دلیل بھی دی ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ میں نے اس حوالے سے ٹویٹ بھی کیا، برتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ کوئی کشمیری یا پاکستانی نہیں بنتا، کشمیریوں نے جانیں دی لیکن ہم نے بھی جانیں دیں، ہم نے پانچ جنگیں لڑی ہیں لیکن صلہ کیا ملتا ہے۔

خواجہ آصف  نے کہا کہ ہم نے نوے کی دہائی میں شدید کشیدگی دیکھی، میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے کشیدگی ختم کرنے کا فیصلہ کیا، ان کے اقتدار کے زمانے میں اس ایوان میں کیا کیا نہیں ہوا، مراد سعید ان میزوں کے اوپر دوڑتے تھے۔

 خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے متلعق بات کرتے ہوئے  کہا کہ آئیں آپ بھی ماضی کو درست کریں اور ہم بھی درست کرتے ہیں، آئیں میثاق جمہوریت کا حصہ بنیں اور دستخط کریں، اِنہوں نے آدھے گھنٹے میں 55 قانون سازیاں کیں، ایک شخص نے سپیکر کی کرسی پر قومی اسمبلی کو تحلیل کیا، ہمارا ماضی قابل رشک نہیں لیکن ہم نے درست کرنے کی کوشش کی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم کی حیثیت سے نواز شریف  اپوزیشن لیڈر کے پاس گئے تھے لیکن عمران خان وزیراعظم تھے تو آپ (پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی) یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے، یہ عمران خان کے ڈر سے ہمارے ساتھ ملتے بھی نہیں تھے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان نے سیاست کو جتنا نقصان پہنچایا اتنا کسی نے نہیں پہنچایا، آئین اور جمہوری روایات کو عمران خان نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، محمود خان اچکزئی ان کے درمیان بیٹھ کر بڑے عجیب لگتے ہیں۔

خواجہ آسف نے کہا کہ اس ایوان میں ہاتھا پائی ہوتی رہی، ہم اور پیپلزپارٹی لڑتے رہے لیکن شہید بی بی اور میان نواز شریف نے احساس کیا اور میثاق جمہوریت پر دستخط کیے، اگر میثاق جمہوریت میں کچھ بہتری لانے کی ضرورت ہے تو آئیں کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا،  آئین کی باتیں کرنے والوں نے اسی ایوان میں تحریک عدم اعتماد کے بجائے آرٹیکل 5 استعمال کیا اور اسمبلی تحلیل کر دی لیکن ہم نے میثاق جمہوریت کرکے ماضی کو بھلایا اور آگے بڑھے، آئیں میثاق جمہوریت کو مزید بہتر بناتے ہیں۔