پی ٹی آئی قائدین کو مزید سزائیں,شاہ محمود کی رہائی کیا کوئی ڈیل کا نتیجہ؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد) آ ج کے شو میں سلیم بخاری صاحب نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سزائیں بیگناہ لوگوں کو ہوئی ہیں نو مئی کو جو کچھ ہوا جس طرح پورے ملک میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے کہا کہ کیا نو مئی کے صرف یہی ملزمان تھے یا کوئی اور بھی ہیں اس وقت یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ اس وقت اس سازش میں کچھ لوگ وہ بھی شامل تھے جنہوں نے فوج کے اند ر تقسیم کی سازش کی تھی۔ان لوگوں کے متعلق کیا فیصلہ ہو ا ہے کسی کو ریٹائر کر دیا کافی نہیں ہے۔
نو مئی کا جو بھی مجرم ہے جس نے یہ سب پلان کیا اس کو سزا ملنی چاہیے۔بانی کی ڈیمانڈ کہ نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیں ، ان کا کہنا تھا کہ اس سے بڑی حماقت کیا ہو سکتی ہے جس سازش کو سارے نیشنل چینلز نے لائیو چلایا ہے یہ تو بانی نے اپنے پاوں پر خود کلہاڑی مار لی۔
سزاوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین کو سزا ئیں ہو رہی ہیں لیکن جو لو گ پارٹیا ں بدل کر آئے تھے وہ یا تو پریس کانفرس کر کے چلے گئے ہیں یا انہوں معاف مانگ لی ہے۔ یوں پی ٹی آئی اپنی نظریاتی قیادت سے محروم ہو چکی ہے جس کا اثر پانچ مئی کی احتجاجی تحریک پر پڑے گا اس وجہ سےنہ تو نظریات کارکن ہوں گے اور نہ ہی موثر احتجاج ہوگا۔
اسرائیل کا ویسٹ بینک پر قبضے کا منصوبہ
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بخاری صا حب نے کہا کہ اسرائیل میں صرف ہی ایک پاگل نہیں ہے، بلکہ کئی پاگل ہیں جو اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ وہ غزہ پر قبضہ کر لیں گے۔اور حماس اور غزہ کے باسی اس کو تسلیم کرلیں گے۔ یا وہ ایران پر حملہ کر کے اس کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور ایران کا ایٹمی پروگرام بند کرا سکتے ہیں۔لیکن وہ امریکہ کی آشیرباد سے کسی بھی ملک پر قبضہ کر سکتے ہیں اسرائیل کو اپنے اس پاگل پن سے نکلنا ہوگا۔انسانیت کے خلاف جس قسم کے سنگین جرائم اسرائیل کر رہا ہے یہ درندگی ہے۔
ملک میں دہشتگردی اور مولانا فضل الرحمان کی تنقید
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بدامنی ریاستی اداروں کی نااہلی ہے یا شعوری طور پر کی جا رہی ہے، اس حوالے سے ہمیں جرت مندانہ موقف لینے کی ضرورت ہے، مسلح جدوجہد جائز نہیں۔بخاری صاحب نے کہا کہ ان کی ناراضگی اتنی حکومت کے ساتھ نہیں ہے جتنی کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہے کیونکہ وہ کافی عرصہ سے پالیٹکس سے باہر ہیں، اور ان کو کوئی میں رول بھی نہیں ملا اس وجہ سے وہ اسٹیبلشمنٹ پر اپنا غصہ نکال رہے ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے 26ویں ترمیم میں حکومت کا ساتھ بھی دیا تھا ۔
یہ بھی پڑھیں :ٹیکس ادانہ کرنے والوں کی گاڑیاں بند ہوں گی