مادرِ جمہوریت نصرت بھٹوکی14 ویں برسی،انکی قربانیوں کو بھلایا نہیں جا سکتا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) سابق خاتون اوّل اور مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کودنیاسے رخصت ہوئے 14برس بیت گئے۔
بیگم نصرت بھٹو کی آج 14ویں برسی منائی جا رہی ہے، ان کی ملک، عوام اور جمہوریت کیلئے جدوجہد بے مثال ہے۔
23 مارچ 1929ء کو ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہونےوالی بیگم نصرت بھٹو کے والد ایک بڑی کاروباری شخصیت تھے، سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1951ء میں نصرت بھٹو سے شادی کی جن سے ان کے چار بچے بینظیر بھٹو، صنم بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو اور میر شاہنواز بھٹو پیدا ہوئے۔
بیگم نصرت بھٹو نے نہ صرف دوران حکومت اپنے شوہر کا بھرپور ساتھ دیا بلکہ برے وقت میں بھی انہیں اور ان کی پارٹی کو اکیلا نہیں چھوڑا، 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے اور پھانسی کے بعد بیگم نصرت بھٹو اور ان کی بیٹیوں کو نظر بند کر دیا گیا تھا، تاہم انہوں نے ہار ماننے کی بجائے تمام تر صعوبتیں جھیلنے کو ترجیح دی،انہوں نے ملک، عوام اور جمہوریت کیلئے قربانیوں کی ایک تاریخ رقم کی اور مشکل وقت میں حالات کا مقابلہ کیا.
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کے نئے مفتی اعظم کے نام کا اعلان، شاہی حکم نامہ جاری
بیگم نصرت بھٹو نے اپنی زندگی میں شوہر کی پھانسی، دوبیٹوں اوربیٹی کی موت کے غم سہے ،پے درپے صدمات جھیلنے والی بیگم نصرت بھٹو 23 اکتوبر 2011ء کو دنیا سے رخصت ہوگئی تھیں،تاہم جمہوریت کیلئے ان کی قربانیوں کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔