بالائی علاقوں میں برفباری سے نظام زندگی مفلوج، رابطہ سڑکیں بند، حادثات میں 2 افراد جاں بحق
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )ملک کے کئی شہروں میں رات بھر بارش،بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا،رابطہ سڑکیں بند، حادثات میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا اور سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے سیاح محصور ہوکر رہ گئے ہیں، ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری کی وجہ سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوگئے ہیں۔
مختلف مقامات پر رابطہ سڑکیں بند ہونے سے مقامی آبادیوں کے ساتھ ساتھ سیاح بھی پھنس گئے ہیں جب کہ مختلف حادثات میں 2 افراد جان کی بازی ہار گئے، شدید سردی اور پھسلن کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
اُدھر بلوچستان کے شمالی بالائی علاقوں میں برفانی طوفان جاری ہے، زیارت جانے والی درجنوں گاڑیاں کوئٹہ زیارت شاہراہ پر پھنس گئی ہیں جبکہ چمن کے گردونواح میں 100 سے زائد سیاح گاڑیوں میں موجود ہیں، این 50 شاہراہ پر مختلف مقامات پر ٹریفک متاثر ہوئی ، جس سے بین الصوبائی آمدورفت معطل ہو گئی۔
این 50 شاہراہ پر برف اور شدید پھسلن کے باعث 9 مختلف حادثات پیش آئے جن میں 27 افراد زخمی ہوئے، کوژک ٹاپ پر سائیبرین ہواؤں کے باعث این 25 چمن کوئٹہ کراچی شاہراہ پر درجہ حرارت منفی 12 ڈگری تک گر گیا، جس سے سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:ووٹر کی عمر 25 سال?احسن اقبال نے حقیقت بیان کر دی
شیلاباغ کے قریب پھسلن کے باعث متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، حادثے میں 2 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے، کوئٹہ میں بھی موسم سرما کی پہلی برفباری ریکارڈ کی گئی جس سے سردی میں اضافہ اور شہری علاقوں میں مشکلات پیدا ہوئیں۔
خیبرپختونخوا کے اضلاع مانسہرہ، بالائی گلیات، شانگلہ، لوئر دیر، مہمند، کالام، اورکزئی، چترال اور خیبر میں بھی شدید برفباری ہوئی،ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں بارش اور برفباری کے باعث 100 کے قریب گاڑیاں پھنس گئیں جبکہ 35 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
شانگلہ میں برفباری کے بعد بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا جبکہ چترال میں متعدد رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں، ناران میں 6 انچ اور شوگران میں ڈیڑھ انچ برف پڑچکی ہے، جہاں سیاح برفباری سے لطف اندوز ہونے کے لیے بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔
گلگت بلتستان کے ضلع استور کے بالائی علاقوں میں 2 سے 3 فٹ تک برفباری ہوچکی ہے جس کے باعث زمینی رابطے منقطع ہوگئے اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے، ہنزہ اور نگر میں بھی برفباری ہوئی جب کہ چیپورسن میں متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔
چلاس، بابوسر ٹاپ، نانگا پربت، بٹوگاہ، داریل اور تانگیر میں برفباری سے سردی کی شدت بڑھ گئی ہے۔
علاوہ ازیں آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مری میں برفباری کے باعث مری ایکسپریس وے جزوی طور پر بند کر دی گئی۔
تحصیل ہیڈ کوارٹر شاردہ میں رواں سال کی پہلی برفباری ہوئی، علاقہ کیل میں 3 فٹ، ہلمت گریس ویلی، کریم آباد نیکرڑوں میں4 فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی، بجلی کی لائنیں اور پول گرنے سے مواصلاتی نظام متاثر ہو گیا۔
برفباری کے باعث تعلیمی اداروں میں دو روزہ تعطیلات کردی گئی، برفباری کا سلسلہ آئندہ24 گھنٹے تک بلا تعطل جاری رہنے کا امکان ہے، ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں اور شہریوں کو برفباری میں غیر ضروری سفر سے روک دیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آج ملک کے بالائی علاقوں میں تیز بارش اور شدید برفباری کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، میدانی علاقوں میں بھی 24 گھنٹے کے دوران بارش کی پیشگوئی ہے۔
ناران، کاغان، دیر، سوات، کالام، چترال، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، شانگلہ، استور، ہنزہ، اسکردو، مری، گلیات، وادیٔ نیلم، باغ، پونچھ، حویلی اور راولاکوٹ میں سڑکوں کے بند ہونے، پھسلن اور ٹریفک کی روانی میں خلل کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق تیز بارش اور شدید برفباری کے نتیجے میں بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے مقامی ندی نالوں میں طغیانی جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خطرہ بھی موجود ہے، اس دوران سیاحوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔