سندھ اسمبلی میں وزیر داخلہ کے گھر پر حملے کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور
Stay tuned with 24 News HD Android App
(عاجز جمالی) سندھ اسمبلی میں جمعرات کے روز وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کے گھر کو جلانے اور اس پر قبضے کے واقعے کے خلاف ایک مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔
قرارداد صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے پیش کی جس میں ایوان نے وزیر داخلہ سندھ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی سنجیدہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے لیکن احتجاج کی آڑ میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کی روایت ناقابلِ قبول ہے، انہوں نے کہا کہ جس مسئلے پر احتجاج کیا جا رہا تھا، وہ کینالز کا مسئلہ تھا جس پر نہ صرف سندھ اسمبلی نے قرارداد منظور کی بلکہ وزیر اعلیٰ سندھ اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی واضح موقف اختیار کیا جس کے بعد یہ مسئلہ سی سی آئی (کونسل آف کامن انٹرسٹ) میں حل ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ کینال کے مسئلے کو بنیاد بنا کر پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہوئے، وہ عوام اور ریاست دونوں کے مجرم ہیں، کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ شہریوں کے گھروں پر حملہ کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضیاء الحسن لنجار کے گھر کو جلایا گیا، اس پر قبضہ کیا گیا، اور یہ واقعہ محض تشدد نہیں بلکہ ایک سنگین دہشت گردی کا واقعہ ہے، جو لوگ اس واقعے میں ملوث ہیں، انہیں عبرت کا نشان بنایا جانا چاہیے، ہم وزیر داخلہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ حملہ ہم سب کے گھروں پر حملے کے مترادف ہے ۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد انٹر نیشنل ایئر پورٹ کا نام بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ رکھنے کی قراردادمنظور