پروفیسر پر تشدد کرنے والا وڈیرا آزاد گھوم رہا ہے، ضیا لنجار کی "ہدایات" پر پولیس ٹس سے مس نہ ہوئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) وڈیرہ شاہی کے غلام سندھ میں یونیورسٹی کے پروفیسر پر تشدد کرنے والا وڈیرے کابیٹا تشدد کا مقدمہ درج ہو جانے کے بعد بھی آزاد گھوم رہا ہے اور حکومت کھوکھلے نعرے لگانے سے آگے کچھ نہیں کر رہی۔
کراچی میں کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر عارف خان پر تشدد کرنے والے مرکزی ملزم کے بارے میں معلوم ہواہے کہ وہ سندھ کے وڈیروں کے سیاسی اتحاد جی ڈی اے کے لیڈر کے بھائی علی گوہر شاہ کا بیٹا ہے۔ پولیس نے پروفیسر پر تشدد کے واقعہ کا مقدمہ تو درج کر لیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے دباؤ پر پانچ افراد کو گرفتار بھی کر لیا لیکن وہ سب چمچے تھے، تشدد کا اصل ذمہ دار طاقتور وڈیرا، بدستور آزاد گھوم رہا ہے۔
جامعہ کراچی کے شعبہ علومِ اسلامیہ (اسلامک لرننگ) کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عارف خان ساقی اور ان کے بھتیجے پر تشدد کا یہ افسوسناک واقعہ منگل، 8 ستمبر 2026 کو کراچی میں سڑک پر صفورہ چوک کے قریب پیش آیا۔
پروفیسر عارف خان ساقی اپنے بھتیجے کے ہمراہ ایک آن لائن ٹیکسی پر بیٹھ کر یونیورسٹی جا رہے تھے۔ صفورہ چوک کے پاس سندھ گرین ریسٹورنٹ کے باہر ایک کالی ڈبل کیبن گاڑی نے ریورس کرتے ہوئے آن لائن سروس کی گاڑی کو ٹکر ماری۔ پروفیسر نے غریب ڈرائیور کے نقصان کا ازالہ کرنے کی بات کی تو اس گاڑی میں سوار وڈیرہ طیش میں آ گیا، پروفیسر اور ان کے بھتیجے کو مار مار کر لہو لہاں کیا اور پھر اغوا کر کے ریسٹورنت کے اندر لے گئے۔
واقعہ کا المناک پہلو یہ ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ہی آ کر پروفیسر اور ان کے بھتیجے کو وڈیرے کی حراست سے رہائی دلوائی، لیکن وڈیرے کو گرفتار کرنے کی پولیس اہلکاروں کو جرات نہیں ہوئی۔
پروفیسر عارف کنے بعد میں بتایا کہ پولیس ریسٹورنٹ پر نہ پہنچتی تو شاید ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہوتا۔
شعبہ اسلامیات کے چئیرمین پر تشدد کے معاملے کی اپ ڈیٹ
تشدد کے اس واقعے کا مقدمہ پروفیسر عارف خان ساقی کی مدعیت میں کراچی کے سچل تھانے میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں اقدامِ قتل، تشدد، زخمی کرنے اور حبسِ بے جا سمیت دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔
پولیس نے "کارروائی" کرتے ہوئے 5 سے زائد ان لوگوں کو گرفتار کر لیا، جو علی گوہر کے ملکیتی ریسٹورنٹ میں کام کرتے ہیں اور ریسٹورنٹ کے سکیورٹی گارڈ ہیں۔
وڈیرہ شاہی کا معاملہ تھا اس لئے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار خود حرکت میں آئے۔ لنجار نے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ایسٹ سے رپورٹ طلب کی اور "بلاامتیاز قانونی کارروائی" کا حکم دیا. پولیس کے محکمہ کے انچارج وزیر سندھ میں پولیس کے لئے حتمی اتھارٹی ہیں، ان کے بلا امتیاز کارروائی کرنے کے حکم کا نتیجہ یہ ہے کہ پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔
پروفیسر پر تشدد کا مجرم کون ہے؟
میڈیا رپورٹس سے نشاندہی ہوئی کہ اسلامیات کے شعبہ کے سربراہ پروفیسر کو سڑک پر تشدد کا نشانہ بنانے والا ایک وڈیرا ہے جو پیر پگارا کا قریبی رشتہ دار، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے لیڈر علی گوہر شاہ کا بیٹا ہے جس کا نام کونین ہے۔
جب میڈیا کے نمائندوں نے سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید سے اس وڈیرے کو اب تک گرفتار نہ کرنے کی وجہ دریافت کی تو سعدیہ جاوید نے بتایا کہ وہ اس واقعہ سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تشدد کے مقدمہ کا مرکزی ملزم کونین جی ڈی اے (GDA) کے لیڈر علی گوہر شاہ کا بیٹا (اور پیر پگارا کا قریبی رشتہ دار) بتایا جاتا ہے۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ ملزم جتنا بھی بااثر ہو، اسے ہر صورت گرفتار کیا جائے گا۔ سعدیہ جاوید نے پروفیسر پر تشدد کرنے والے کو گرفتار کرنے کا ارادہ تو ظاہر کیا لیکن اس کے ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ حکومت نے ملزم کے اہلخانہ سے پروفیسر صاحب سے معافی مانگنے کا بھی کہا گیا ہے۔
کراچی یونیورسٹی میں فیکلٹی کا احتجاج
جامعہ کراچی کی انجمنِ اساتذہ اور سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن نے اس واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور تعلیمی اداروں سے وابستہ شخصیات کے تحفظ اور بااثر افراد کے خلاف سخت ترین ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی میں جامعہ کے پروفیسر عارف خان پر تشدد کے واقعے میں پولیس نے 5 سے 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا، تاہم واقعے کا مرکزی ملزم تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آسکا۔
اس حوالے سے ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا پروفیسر پر تشدد کے مرکزی ملزم کا تعلق جی ڈی اے رہنما کے خاندان سے ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ مقدمہ کا مرکزی ملزم جی ڈی اے کے لیڈر کے بھائی علی گوہرشاہ کا بیٹا ہے، وہ کتنا ہی با اثرکیوں نہ ہو، گرفتاری ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے میں استعمال ہونے والا ڈبل کیبن پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے اور متعلقہ ہوٹل کو بھی سیل کردیا گیا ہے۔
سعدیہ جاوید نے ملزم کے اہلخانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ سامنے آکر استاد سے معافی مانگیں۔
مزید پڑھیں : ڈالے والے کی بدمعاشی : پروفیسر جامعہ کراچی نے اصل بات بتا دی
ان کا مزید کہنا تھا کہ تشدد میں ملوث دو گارڈز گل شیر اور تاج محمد کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے اور ملازمین نے جس کی ایما پر پروفیسر پر تشدد کیا، اسے بھی جلد گرفتار کیا جائے گا۔
یاد رہے گزشتہ روز صفورہ چورنگی کے قریب ڈبل کیبن کے مالک نے مسلح گارڈز کے ہمراہ پروفیسر عارف خان اور ان کے بھتیجے کو مبینہ طور پر ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
واقعے کے بعد پروفیسر اور ان کے بھتیجے کو قریب واقع ملزم کے ملکیتی ریستوران میں مبینہ طور پر حبس میں بھی رکھا گیا تھا۔