عبدالعلیم خان کی پارٹی رہنماؤں کوبلدیاتی انتخابات کی تیاریوں سےمتعلق ہدایت 

Aug 22, 2025 | 11:25:AM
عبدالعلیم خان کی پارٹی رہنماؤں کوبلدیاتی انتخابات کی تیاریوں سےمتعلق ہدایت 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(حسن علی)صدرآئی پی پی عبدالعلیم خان نے پارٹی رہنماؤں کوبلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے ہدایت جاری کر دی۔

عبدالعلیم خان نےلاہور سمیت پنجاب بھر سے تنظیموں کی فہرستیں طلب کر لیں۔

صدرآئی پی پی عبدالعلیم خان نے کہا کہ  پنجاب سے ایسےافرادکی فہرستیں تیارکی جائیں جوسیاسی طورپرمضبوط ہوں ۔
صدرآئی پی پی نے مزید کہا  کہ جن یونین کونسلز میں تنظیمیں مکمل نہیں ان کو ایک ماہ کے اندر مکمل کیا جائے ۔

یہ بھی پڑھیں:انسانی سمگلنگ کیخلاف ایف آئی اے کی اے آئی بیسڈ ایپ تیار،محسن نقوی کو بریفنگ

عبدالعلیم خان نے عہدیداروں کو   پنجاب بھر کی ہر یونین کونسل میں آئی پی پی کی تنظیمیں متحرک کرنے کی بھی  ہدایات جا ری کیں۔
 دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کر دیا ہے، آئی پی پی کا کہنا ہے کہ چاروں صوبوں کو موجودہ تقاضوں کے مطابق 3،3 نئے صوبوں میں تقسیم کیا جائے۔

 عبدالعلیم خان کی زیر صدارت اجلاس میں نئے صوبوں کے قیام کی سفارشات پیش کی گئی، آئی پی پی کے صدر  نے کہا کہ آبادی میں اضافے کے بعد نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے،  پنجاب سندھ، کے پی کے اور بلوچستان میں نئے صوبے بننے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بجلی کا یکساں ’’ماہانہ ٹیرف لاگو ‘‘ منظوری بھی دیدی گئی

پارٹی اجلاس میں گفتگو میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ ہر صوبے میں اسی نام کے ساتھ نارتھ، ساؤتھ اور سینٹرل نئے صوبے بنانے ہونگے، استحکام پاکستان پارٹی کی سینٹرل کمیٹی پہلے ہی نئے صوبوں کے قیام کی قرارداد پیش کر چکی ہے۔

آئی پی پی پارٹی کے صدر نے کہا کہ آئی پی پی نے اپنے قرداد میں کہا ہے کہ نئے صوبوں سے عوام کے مسائل کا حل ان کی دہلیز پر ممکن ہو گا، نئے صوبوں میں ہائیکورٹس، چیف سیکرٹری اور آئی جی بہتر کام کر سکیں گے۔

عبدالعلیم خان نے کہا کہ عوام کی شکایات کے ازالے کے لئے نئے صوبے جلد بنائیں جائیں، سیکرٹریٹ میں میلوں دور سے آنے والے شہریوں کو ریلیف ملے گا، موجودہ صوبوں کو اسی شناخت کے ساتھ 3 حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، گزشتہ 25 سال سے صوبوں کی تقسیم کی بات چل رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک نئے صوبوں پر صرف سیاست ہوئی، زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں ہوا لیکن اب وقت آگیا ہے کہ باہمی مشاورت سے نئے صوبوں کے قیام کی راہ ہموار ہو، نئے صوبے ملکی استحکام اور معیشت کی بہتری میں معاون ثابت ہو نگے۔