خواتین کااغواء؛لاہورہائیکورٹ کاپولیس کی رپورٹ پر عدم اطمینان
لاہور ہائیکورٹ نے چار سال قبل اغواء ہونے والی لڑکی کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت یکم جون تک ملتوی کردی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے چار سال قبل اغواء ہونے والی لڑکی کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت یکم جون تک ملتوی کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو آئندہ سماعت پر حاضری سے استثنیٰ دے دیا۔
چار سال قبل اغواء ہونے والی لڑکی کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران آئی جی پولیس عبد الکریم سمیت پولیس افسران ہائیکورٹ پیش ہوئے ،چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اغوا ہونے والی لڑکیوں کی بڑی تعداد تاحال بازیاب نہیں ہو سکی۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ پولیس کی بنیادی ذمہ داری مغوی بچیوں کو بازیاب کرانا ہے، تاہم ادارہ اس اہم فریضے کی ادائیگی میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے سائلہ سلمیٰ بی بی کی درخواست پر سماعت کی ، جس نے دو ہزار بائیس میں اپنی بیٹی مقدس بی بی کی بازیابی کے لیےہائیکورٹ سے رجوع کیا ۔ آئی جی پولیس عبد الکریم ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان سمیت دیگر اعلیٰ پولیس افسران کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے، جبکہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر نے آئی جی پنجاب کی جانب سے رپورٹ پیش کی۔
آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر پانچ سالوں کے دوران اغواء اور بازیاب ہونے والی خواتین کے متعلق رپورٹ تیار کی ہے جس کے مطابق 2021 سے 2025 تک خواتین کے اغواء سے متعلق ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو چوالیس مقدمات درج ہوئے،پانچ سال کے دوران ایک لاکھ پانچ ہزار پانچ سو اکہتر خواتین اغوا ہوئیں جبکہ دفعہ 365 بی کے تحت 70 ہزار سات سو تہتر اور دفعہ 496 اے کے تحت 34 ہزار چار سو اکہتر مقدمات درج کیے گئے۔
آئی جی پنجاب نے مزید بتایا کہ مغوی لڑکیوں کے بیانات کی روشنی میں 80 ہزار سات سو چھہتر مقدمات خارج کیے گئے، جبکہ 20 ہزار چھ سو تیرہ مقدمات کے چالان عدالتوں میں پیش کیے گئے، اس وقت تین ہزار آٹھ سو چونسٹھ مقدمات زیر تفتیش ہیں،چھ سو بارہ خواتین کو بازیاب کرا لیا گیا ہے، تاہم تین ہزار دو سو اٹھاون خواتین تاحال لاپتہ ہیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں کیوں بازیاب نہیں ہو سکیں؟ اس پر آئی جی پنجاب عبد الکریم نے مؤقف اختیار کیا کہ انتظامی مسائل کے باعث مشکلات درپیش ہیں۔ چیف جسٹس نے اس جواب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی مسائل کو حل کرنا پولیس کی اپنی ذمہ داری ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی قابل قبول نہیں۔
سماعت کے دوران ایک دلچسپ لمحہ بھی پیش آیا جب آئی جی پنجاب نے چیف جسٹس کو غلطی سے “میڈم سی ایم” کہہ دیا، تاہم فوراً اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے معذرت کر لی ۔
آئی جی پنجاب نے عدالت کو مزید بتایا کہ اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ایک باقاعدہ میکنزم تشکیل دیا گیا ہے اور ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم قائم کی گئی ہے، جبکہ صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر یونٹس بھی فعال کیے گئے ہیں،عدالت نے پولیس کی ناقص کارکردگی پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے حکم دیا کہ مغوی بچیوں کو بازیاب نہ کرانے والے تفتیشی افسران کی کارکردگی کا فوری جائزہ لیا جائے اور ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ ناقص کارکردگی کے حامل افسران کو آئندہ انویسٹی گیشن پر تعینات نہ کیا جائے، عدالت نے اغوا کے کیسز کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی سپیشل ٹیم کو آئندہ سماعت پر مکمل رپورٹ کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چھوٹا طیارہ کریش لینڈنگ کی کوشش میں بجلی کی تاروں سے ٹکرا گیا
واضح رہے کہ درخواست گزار سلمیٰ بی بی نے اپنی بیٹی مقدس بی بی کی بازیابی کے لیے 2022 میں لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، اس کیس میں آئی جی پنجاب عبد الکریم اس سے قبل بھی دو مرتبہ عدالت میں پیش ہو چکے ہیں۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم جون تک ملتوی کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو آئندہ سماعت پر حاضری سے استثنیٰ دے دیا۔