ملک میں بدامنی تشویشناک، آئین، اخلاقیات سے عاری لوگ حکومت پر قابض ہیں:فضل الرحمن
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں بدامنی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، سندھ میں ڈاکو راج ہے، بلوچستان میں بینک لوٹے جاتے ہیں، سڑک کنارے پیسے تقسیم کیے جاتے ہیں ۔
مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی جنرل کونسل کے پشاور میں 2 روزہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو صوبوں کے اندر بدامنی کی صورتحال یہاں پہنچ گئی، بلوچستان کے ممبران نے کہا کے ہم ان راستوں سے کراچی نہیں پہنچ سکتے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ہم نے راستوں کے غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے کبھی بھی اپنا اجلاس ایک کونے سے دوسرے کونے پر منتقل نہیں کیا، ہم بار بار کہتے رہے ہیں کہ دو صوبوں میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سندھ میں بھی ڈاکوؤں کا راج ہے، بلوچستان میں بینک لوٹے جاتے ہیں، سڑک کنارے پیسے تقسیم کیے جاتے ہیں، کل ہمارے سینیٹر شکور خان کو ائیرپورٹ روک دیا گیا کہ وہ چین نہیں جا سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پتہ نہیں کونسی قوتیں ہیں، ہمارے صوبے میں تو منسٹر کو باقاعدہ گاڑیوں سے اتار دیا جاتا ہے، مسلح لوگ آتے ہیں گاڑیوں کے ٹائر پر فائرنگ کرتے ہیں، طاقتور لوگ ملک پر حکومت کر رہے ہیں، وہ جو مرضی کریں نا وہ قانون کے پابند ہیں نا آئین کے پابند ہیں نا وہ اخلاقیات کے پابند ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک میں قرضوں کا دباؤ ہے، پچھلی حکومت نے دو گنا قرضے بڑھائے، اب قرضوں کا دباؤ اس سے بھی کئی گنا آگے بڑھ گیا ہے، مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے، لوگ اب کس کے سامنے روئیں نا حکومت ہے جو حکمران ہیں نا ان کی آنکھیں ہیں نا کان ہیں، بس اندھا دھند طاقت کا استعمال ہے۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ اسلام آباد میں چند دن بعد سیاسی جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کیا ہے، اسلام آباد کو کنٹینرز سے بھر دیا ہے، ہم نے کسی کو احتجاج کا حق نہیں دینا نا اظہار خیال کا حق دینا ہے، کشمیر کے اندر کسی کے پاس بندوق نہیں ان کو لاشیں دی جا رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ تین مہینوں سے لوگ بیٹھے ہیں جو وعدے کیے وہ بھی پورے نہیں کیے، کوئی را کا ایجنٹ بن جاتا ہے تو کوئی موساد کا ایجنٹ بن جاتا ہے جس طرح خوارج صرف اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں یہ بھی صرف اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہیں، آج بھی میگا پروجیکٹ پاکستان میں معطل ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے کئی کمپنیاں ملک سے باہر جا چکی ہیں، تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں نے آنا جانا چھوڑ دیا ہے، چائنا کا اعتماد ہم کھو چکے ہیں۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، پولیس پر حملے ہو رہے ہیں، ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ چکی ہے، ہم ماضی کے معاملات سے نمٹ نہیں رہے، ہم نئے نئے مسائل پیدا کر رہے ہیں، کبھی صوبوں کا مسلہ چھیڑ دیتے ہیں تو کبھی این ایف سی ایوارڈ کا تو کبھی معدنی وسائل کا ان حالات میں نئے نئے مسائل پیدا کرنا اس سے بڑھ کر غیرسنجدگی نہیں ہو سکتی۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کا ایک حصہ صوبوں کے ٹکروں کی بات کر رہا ہے اور حکومت خاموش ہے، حکومت کا ایک فرد بول رہا ہے اس کی حثیت کیا ہے وہ نوکر ہے، اتنے بے بس ہم بھی نہیں کہ ہم تماشہ دیکھتے رہیں، شکر کرو ابھی عوام آپ کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں سیاسی جماعتیں آپ کے ساتھ ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آپ نے ایران امریکہ ثالثی کا کردار ادا کیا ہم نے حمایت کی پر اسکے نتائج بھی تو بتائیں، آج سعودیہ پر حملے کیے جا رہے ہیں، راکٹوں کے رُخ حرمین شریفین کی جانب ہیں، میں نے کئی بار کہا کہ ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے اور قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کدھر جا رہا ہے۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ پارلیمانی لیڈر کے بند کمرے کے اجلاس سے کسی کو دلچسپی نہیں، سعودیہ عرب پر حملہ ہمارا دفاعی معاہدہ ہے، جنگی معاہدہ نہیں، معاہدے میں کہا گیا کہ ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہے، اس سے آگے بڑھنا چاہئے تھا، اس میں مصر اور ایران کو شامل کرنا چاہئے تھا، اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملک میں پیسہ نہیں آئے گا، اسلحہ آئے گا اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے جا رہے ہیں، ہم نے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اتحاد، المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اداروں اور حکومت سے کرنا ہے، آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یہاں پر چھبیسویں ترمیم میں کچھ ترامیم منظور کی گئی ہیں، سود کے خاتمے کا کہا گیا پر ابھی تک عملدرآمد نہیں کیا جا سکا، سود اللہ اور اس کے رسول سے جنگ ہے، آپ نے یہ مطالبہ تسلیم کیا کہ اس وقت آپ نے کہا ہم سود کو حرام سمجھتے ہیں، آج پھر ادھر اُدھر کی باتیں کی جا رہی ہیں آب یہ باتیں مکمل ہو چکی ہیں۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کو موثر بنانے کی بات کی گئی پر اس کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے، اس طرح آئین کا مذاق بنایا جاتا ہے، جب حکومتیں دھندلی سے لائی جائیں گی تو اس طرح کی صورتحال ہوگی اور اس طرز زندگی کو غلامی سے تعبیر کیا جاتا ہے، جماعت نے اجازت دی ہے کہ جوائنٹ اپوزیشن کی توثیق کی ہے، ہم پندرہ حکومت کو ملتان میں مفتی محمود کانفرنس کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں، ہم نے صوبوں کے حقوق کئُبات کی صوبے کے وسائل اس کے عوام اس کے مالک ہیں، منزل آیند مائن ایکٹ جو پاس کیا یہ صوبوں کے حقوق غصب کرنے کے مترادف ہے، ہماری جماعت نے اس کو مسترد کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم اگلے سال میں امن عالم کانفرنس سندھ میں منعقد کریں گے جس میں چالیس پچاس لوگ شرکت کریں گے، پرامن زندگی ہر انسان ہر شہری کا حق ہے، احتجاج کا حق سب کو ہے اگر حکومت کو تحفظات ہیں تو وہ سیاسی جماعتوں سے بات کرے۔