ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اتھارٹی میں مبینہ غیر قانونی تقرری کا آڈٹ پیرا میں انکشاف

Sep 21, 2026 | 19:29:PM
ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اتھارٹی میں مبینہ غیر قانونی تقرری کا آڈٹ پیرا میں انکشاف
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(روزینہ علی) ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اتھارٹی (EPZA) میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں اور مالی بے قاعدگیوں کے حوالے سے اہم آڈٹ انکشافات سامنے آئے ہیں۔ 

آڈٹ کے مطابق سعدت ایس چیمہ کی ایک سالہ کنٹریکٹ پر بطور جنرل منیجر تقرری کسی اشتہار کے بغیر کی گئی، تقرری پر پابندی کے دوران یہ تعیناتی عمل میں لائی گئی، جنرل منیجر کی تقرری اور 73 لاکھ 85 ہزار روپے کی ادائیگی کو آڈٹ نے بے قاعدہ قرار دیا ،آڈٹ نے اس تقرری کو ادارے کے کمزور داخلی نظام کی قرار دیا ہے۔
 اس معاملے پر سب سے پہلے 2016 میں انتظامیہ سے جواب طلب کیا گیا،سال 2016 اور پھر 2020 میں ڈی اے سی (DAC) نے تقرری کا ریکارڈ آڈٹ سے تصدیق کرانے کا حکم دیا  تاہم چار سال بعد ڈی اے سی نے یہ معاملہ بالآخر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔
سابق چیئرمین ای پی زیڈ اے   محمد طارق حسن کی بطور چیئرمین ای پی زیڈ اے تقرری دو سال کے کنٹریکٹ پر ہوئی لیکن ان کی تنخواہ مقررہ کم از کم سطح کے بجائے زیادہ سے زیادہ سطح پر مقرر کی گئی۔
 آڈٹ کے مطابق تنخواہ زیادہ سے زیادہ اسکیل پر مقرر کرکے قواعد کی خلاف ورزی کی گئی جس سے ای پی زیڈ اے کو مالی نقصان پہنچا،سابق چیئرمین کو تنخواہ اور مراعات کی مد میں 18 لاکھ 54 ہزار روپے سے زائد کی ادائیاں کی گئیں۔
  فنانس ڈویژن کے مطابق تنخواہ کی شرائط کی منظوری مجاز تقرری اتھارٹی یعنی وزیراعظم سے درکار تھی۔
 ڈی اے سی نے سابق چیئرمین کی تنخواہ کی فکسیشن کا دوبارہ جائزہ لینے، باقاعدہ کرانے، دستاویزی ثبوت پیش کرنے اور قانونی ریگولرائزیشن کے شواہد طلب کیے ہیں۔
پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی نے تحقیقات مکمل کر کے آڈٹ پیرا جلد نمٹانے کی ہدایت جاری کی ہے جبکہ کمیٹی کے کنوینئر نے موجودہ صورتحال پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار  کیا ۔