تنخواہ دار طبقے اورنان فائلرز کوریلیف دینے کی متعدد تجاویز منظور
یومیہ 75 ہزار روپے نکلوانے پرٹیکس 0.6 سےبڑھا کر 0.8 فیصد کرنے کی تجویزبھی منظورکرلی گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وقاص عظیم) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں تنخواہ دار طبقے اور نان فائلرز کو ریلیف دینے کی متعدد تجاویز منظور کرلی گئیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سیدنوید قمر کی زیر صدارت ہوا ، فنانس میں انکم ٹیکس تجاویز کی شق وار منظوری پر غورکیاگیا،تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس میں ردو بدل کی تجویزبھی منظورکی گئی۔
اجلاس میں تنخواہ دار طبقے اور نان فائلرز کو ریلیف دینے کی متعدد تجاویز منظور کرلی گئیں،سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ تنخواہ پرٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے1فیصد کرنے اور نان فائلرزکیلئے بینک سے کیش نکلوانے کی حد 50 ہزارسے بڑھا کر 75 ہزارکرنے کی تجویز منظور کرلی گئی،جبکہ یومیہ 75 ہزار روپے نکلوانے پرٹیکس 0.6 سےبڑھا کر 0.8 فیصد کرنے کی تجویز منظورکی گئی۔
اجلاس میں کارپوریٹ سیکٹر پر سپر ٹیکس میں 0.5 فیصد کمی کی تجویز بھی منظور کی گئی جبکہ ساکرا اکاؤنٹس میں 6 ماہ سے کم مدت کے لیے ڈیپازٹ کرانے پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز منظورکی گئی۔
حکام اسٹیٹ بینک کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی اکاؤنٹس میں ایک سال سے کم مدت کے لیے ڈیپازٹ پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے،غیر ملکی سرمایہ کار اگر ایک سال تک ڈیپازٹ کریں گے تو ٹیکس چھوٹ ملے گی کیونکہ وہ شارٹ ٹرم کے لیے ڈیپازٹ کراتے ہیں تو حکومت کو اس کا فائدہ نہیں ہوتا،اس وقت مارکیٹ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اتنا پیسہ موجود نہیں ہے۔
اجلاس میں کیش آن ڈیلیوری خریداری پر 2 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لگانے،ای کامرس پر ٹیکس لگانے اورآمدن سے زیادہ بینکاری لین دین کرنے والے افراد کا ڈیٹا بینکوں سے لینے کی تجویزبھی منظورکرلی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی دعوے غلط، جنگ بندی کی درخواست نہیں کی تھی: دفتر خارجہ
چیئرمین ایف بی آر کے مطابق کمپیوٹرائزڈ الگورتھم کے ذریعے ایک حد سے زیادہ ٹرانزیکشنز کا ڈیٹا بینک کو فراہم کیا جائے گا،کرنٹ اکاؤنٹ میں ہائی ٹرانزیکشنز کرنے والوں کا ریڈ فلیگ جاری کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب بھر میں یکم سے 10 محرم الحرام تک دفعہ 144 نافذ
اجلاس میں کاروباری حدود میں ایف بی آر عملے کی تعیناتی کی تجویز منظوراورآن لائن مارکیٹ پر غیر رجسٹرڈ افراد کو فروخت پر جرمانے کی تجویز مستردکردی گئی،آن لائن مارکیٹ پر سالانہ 50 لاکھ روپے کی فروخت پر ٹیکس چھوٹ ہوگی۔