سانحہ بلوچستان پر سینیٹرز پھٹ پڑے، ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

Jul 21, 2025 | 22:33:PM
سانحہ بلوچستان پر سینیٹرز پھٹ پڑے، ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز )سینیٹ اجلاس کے دوران سانحہ بلوچستان کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی جبکہ سینیٹرز نے مطالبہ کیا کہ سانحہ پر آئی جی سے ایس ایچ او تک کو معطل کیا جائے جبکہ پاکستان کی عزت پر حملہ کرنے والے ملزمان کو سزائے موت دی جائے۔

سینیٹر عرفان صدیقی سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ میں سانحہ بلوچستان پر تفصیلی بحث کے بعد حل نکالا جانا چاہئے، بلوچستان کی سرزمین پر درندگی کا ایسا واقعہ ہوا ہے جس پر دھرتی خون کے آنسو روتی رہے گی۔ کیا یہ سانحہ سمندر کی گہرائی میں ہوا یا جنگل میں کہ صوبائی حکومت کو دو ماہ خبر نہ ہوئی، عوامی عدالت لگا کر قتل کی سزا دینے کا قانون اور نظام کہاں سے آیا، یہ نظام آج کی کسی اسٹیبلشمنٹ نے نہیں بنایا بلکہ یہ قیام پاکستان سے پہلے کا ہے۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ بلوچستان واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، یہ ہمارے معاشرہ کا گھناونا چہرہ سامنے لاتا ہے، ہمیں معاشرہ میں انصاف کانا ہوگا، جس طرح نہتے خاتون کو گولی ماری گئی ناقابل برداشت ہے، پاکستان اس سے ڈس آنر ہوا ہے، ہماری اطلاع کے مطابق گیارہ سے تیرہ افراد پر ایف آئی آر درج ہو چکی ہے۔

سینیٹر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی بھارت کی پشت پناہی سے ہو رہی ہے، محرومیوں سے اس کا تعلق نہیں، بلوچستان کا کوٹہ آبادی کے تناسب سے زیادہ ہے، وفاقی اداروں میں 41 ہزار 809 بلوچ افراد بھرتی ہو چکے ہیں، مزید 3 ہزار 353 آسامیوں پر بھرتی کا عمل جاری ہے

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، جو بھی اس ویڈیو میں نظر آ رہا ہے اس کو سزائے موت ہونی چاہئے، میں تجویز دیتا ہوں ایک مہینے میں ان لوگوں کو سزائے موت ہونی چاہئے، اس معاملے پر ایک عملدرآمد کمیٹی بنائی جائے، وزیراعلیٰ سے لے کر آئی جی اور ایس ایچ او تک سب کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی سینیٹر خالدہ عتیب نے کہا ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں خواتین پر مظالم ناقابلِ برداشت ہیں، ذاتی عدالتوں اور جرگوں پر پابندی لگائی جائے، خواتین پر فیصلے سنانے والے جرگے شریعت اور آئین کی خلاف ورزی ہیں، صرف گرفتاریاں کافی نہیں، غیرقانونی عدالتوں کا خاتمہ ضروری ہے، اسلام نے عورت کو اعلیٰ مقام دیا، مگر معاشرہ برابری نہیں دیتا ہے۔پسند کی شادی عورت کا شرعی اور قانونی حق ہے۔

سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ بلوچستان کا واقعہ سانحہ ہے، افسوسناک کہنا کم ہے، یہ واقعہ بلوچستان نہیں، پاکستان کی عزت پر حملہ ہے، جرگے کی عدالت میں فیصلے، گواہیاں، اور پھر قتل ، یہ نظام کیا ہے؟ یہ دہشتگردی نہیں، ایک متوازی نظامِ انصاف ہے، صوبائی حکومت کو سانحے کی خبر دو ماہ بعد ملی، حیران کن ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ صرف صوبے یا سیاست کا مسئلہ نہیں، جاگیرداری و سرداری نظام کے خاتمے کا قانون بنایا جائے جو بھی جرگہ لگا کر انصاف کرے، وہ ریاست کا مجرم ہونا چاہئے، ریاست کو خود کو منوانا ہوگا ورنہ رسوائی جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوااسمبلی؛سینیٹ کی نشستوں پر کامیاب امیدواروں کااعلان