پاکستان سپورٹس بورڈ کا جونیئر کھلاڑیوں کی عمر میں جعلسازی روکنے کیلئے بڑا اقدام

Jul 21, 2025 | 16:19:PM
پاکستان سپورٹس بورڈ کا جونیئر کھلاڑیوں کی عمر میں جعلسازی روکنے کیلئے بڑا اقدام
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(روزینہ علی)پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے جونیئر کھلاڑیوں کی عمروں میں جعلسازی کو پی ایس بی کوڈ آف ایتھکس اینڈ گورننس ان اسپورٹس کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت اقدامات نافذ کردیے، آئندہ جونیئر کھلاڑیوں سے ب فارم، شناختی کارڈ اور میڈیکل ٹیسٹ لازمی قرار دیدیا۔

پاکستان سپورٹس بورڈ نے جونیئر کھلاڑیوں کی عمروں میں جعلسازی روکنے کیلئے سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کرلیا، پی ایس بی کی جانب سے 21 سال تک کے جونیئر کھلاڑیوں کیلئے شناختی کارڈ یا 'ب فارم'، سلیکشن کمیٹی کے ارکان کے نام، دانتوں کا معائنہ اور ریڈیالوجیکل ٹیسٹ لازمی قرار دیدیا گیا ہے۔

پی ایس بی کے مطابق آئندہ کھلاڑیوں کو فیڈریشن کے صدر اور سیکریٹری جنرل کی تصدیق شدہ میڈیکل رپورٹس اور تمام متعلقہ دستاویزات بھی پاکستان اسپورٹس بورڈ میں جمع کرانا ہوں گی۔

پی ایس بی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جعلی یا مشکوک دستاویزات کی صورت میں متعلقہ کھلاڑی کو کیمپ میں شرکت، مالی معاونت یا کیش ایوارڈ کی فراہمی کیلئے نااہل قرار دیتے ہوئے مزید کارروائی بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر جونیئر سطح پر عمر میں جعلسازی کو ناصرف غیرمنصفانہ مقابلوں بلکہ کھلاڑیوں کی جسمانی حفاظت اور کھیلوں کے نظام کی ساکھ کیلئے بھی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

نوٹیفکیشن میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کچھ کھلاڑی غلط یا جعلی عمر کی دستاویزات کے ساتھ مخصوص کیٹیگریز میں مقابلوں میں شریک ہوتے ہیں جس سے ناصرف مستحق کھلاڑیوں کا حق متاثر ہوتا ہے بلکہ غیر مساوی جسمانی ساخت کے باعث ممکنہ طور پر چوٹ یا دیگر مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) اور دیگر عالمی ادارے متعدد بار اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ کھیلوں میں شفافیت اور دیانت داری کے فروغ کیلئے عمر کے غلط اندراج کی سختی سے روک تھام ضروری ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف درست اور تصدیق شدہ دستاویزات جمع کرانے والے کھلاڑیوں کو پی ایس بی کے تربیتی کیمپس میں شرکت، مالی معاونت اور کیش ایوارڈ کے حصول کے لیے اہل سمجھا جائے گا۔


 یہ بھی پڑھیں : بغیر پنالٹی گولز :لیونل میسی، رونالڈو سے آگے