بانی تحریک انصاف کی ضمانت کا تحریری فیصلہ جاری
بانی پی ٹی آئی کیخلاف شواہد کی سکروٹنی ضروری ،شواہد کا جائزہ ٹرائل کورٹ ہی لے سکتی ہے، فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی مقدمات میں ضمانت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔4 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس یحیی آفریدی نے تحریر کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی کے 8مقدمات میں ضمانت منظور کی جاتی ہے،ہر مقدمے میں ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہےکہ لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت کے مقدمے میں میرٹس زیر بحث لائے،مبینہ سازش سے متعلق شواہد ٹرائل کے دوران ہی جانچے جائیں گے،بانی پی ٹی آئی کیخلاف شواہد کی سکروٹنی ضروری ہے،شواہد کا جائزہ ٹرائل کورٹ ہی لے سکتی ہے،لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت کے مقدمے میں شواہد پر حتمی نوعیت کی آبرویشنز دیں،پراسیکیوشن کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے مقدمات میں درج الزمات کی سازش تیار کی،پراسیکیوشن نے تین گواہان اور الیکٹرانک شواہد کی جانب عدالت کی توجہ مبذول کرائی،پراسیکیوشن نے اعجاز چوہدری اور حافظ فرحت اور دیگر مقدمات کو بانی سے علیحدہ ہونے کا موقف اپنایا،سپریم کورٹ کی جانب سے کیس کے میرٹس پر آبزرویشن ٹرائل کو متاثر کر سکتی ہیں،درخواست گزار پر سازش کے الزامات ثابت کرنے کا بہترین فورم ٹرائل کورٹ ہے،اسی نوعیت کے دیگر مقدمات میں ملزمان کو ضمانت مل چکی ہے،تسلسل کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست گزار کی ضمانت منظور کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ہائیکورٹ کے جج سردار اعجاز اسحاق کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر