اسرائیلی فوج ایک بار پھر غیر معمولی الرٹ پر، آئل مارکیٹ امن کیلئے پرامید
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) اسرائیل کی فوج ایک بار پھر غیر معمولی الرٹ پر ہے۔ اسرائیل کی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ضمیر ایال نے تصدیق کی ہے کہ ایران سے جنگ کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر فوج 'سب سے زیادہ چوکس' ہے۔ اسرائیلی فوج کی چوکسی کے برعکس انترنیشنل آئل مارکیٹ نے آج قیمت میں پانچ فیصد کمی دیکھی اور امن کی امید میں اضافہ کا اظہار کیا۔
گلف نیوز نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیل کے آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے بدھ کے روز کہا کہ فوج اپنی انتہائی چوکسی کی سطح پر ہے، کیونکہ تہران اور واشنگٹن جنگ کے خطرات بڑھنے کی طرف جا رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کئے گئے ایک بیان کے مطابق، جنرل ایال ضمیر نے تمام ڈویژن کمانڈروں کی ایک میٹنگ میں کہا، "اس وقت، آئی ڈی ایف انتہائی چوکس ہے اور کسی بھی پیشرفت کے لیے تیار ہے۔"

ایران کے پاسداران انقلاب نے اس سے پہلے خبردار کیا تھا کہ اگر امریہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے شروع کیے تو جنگ خطے سے باہر پھیل جائے گی۔ پاسداران کا یہ بیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ کہنے کے بعد آیا کہ اگر تہران امن معاہدے پر راضی نہیں ہوا تو وہ دوبارہ ایران پر حملہ کریں گے۔ ٹرمپ نے آج بدھ کے روز میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت کی ہے اور نیتن یاہو وہی کریں گے جو ٹرمپ کہیں گے۔
اس دوران ہی ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے بھی کہا ہے کہ امریکہ دوبارہ جنگ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ایران کے اپریل کی پہلے ہفتے اسلام آباد میں ہوئے مذاکرات میں چیف مذاکرات کار کی حیثیت سے شریک رہنے والے باقر قالیباف نے کہا، امریکہ 'نئی جنگ شروع کرنا چاہتا ہے'
بدھ کے روز میڈیا نے باقر قالیباف کو یہ کہتے ہوئے رپورٹ کیا امریکہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ امید کر رہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہتھیار ڈال دے گا۔
قالیباف نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر ایک آڈیو بیان میں کہا، ’’دشمن کی ظاہری اور خفیہ حرکتیں ظاہر کرتی ہیں کہ معاشی اور سیاسی دباؤ کے باوجود اس نے اپنے فوجی مقاصد کو ترک نہیں کیا ہے اور وہ ایک نئی جنگ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘

قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت آیا جب تہران اور واشنگٹن نے جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز کا تبادلہ کرتے ہوئے دھمکیوں میں بھی اضافہ کیا۔
اس صورتحال کا ایک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اس وقت تہران میں ایرانی حکام سے اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان سے ایک اور اہم شخصیت کے تہران جانے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دینے کی کوششیں جاری
بدھ کے روز، ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کہنے کے بعد دوبارہ حملے شروع کیے تو جنگ خطے سے باہر پھیل جائے گی۔
قالباف نے کہا کہ امریکہ اب بھی امید کر رہا ہے کہ ایران ہتھیار ڈال دے گا اور 13 اپریل سے اقتصادی دباؤ اور بحری ناکہ بندی کو برقرار رکھتے ہوئے واشنگٹن کے "ضرورت سے زیادہ مطالبات" کا جواب دے گا۔
آئل مارکیٹ کا ردعمل
اس پیچیدہ ہوتی صورتحال کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدہ ہو جانے کی امید ظاہر کی تو اس پر آئل مارکیٹ کا ردعمل یہ آیا ہے کہ کروڈ آئل کی قیمت میں ایک ہی دن میں پانچ فیصد کمی ہو گئی ہے۔ کروڈ کی قیمت میں اس برق رفتار کمی کو مارکیٹ میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خوف اور خدشات میں کمی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے "آخری مراحل" میں ہے۔
بین الاقوامی بینچ مارک، برینٹ نارتھ سی کروڈ کی قیمت 5.2 فیصد کم ہوکر 105.47 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ، 5.0 فیصد گر کر 98.94 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔