محکمہ تعلیم میں ایک ملین سے زائد مالیت کی مبینہ کرپشن اور مالی بے ضابطگیاں ثابت

 سرکاری فنڈز میں خردبرد، جعلی ریکارڈ سازی اور خریداری میں بے ضابطگیوں کے الزامات ابتدائی طور پر ثابت قراردے دیئے

Jun 19, 2026 | 14:14:PM
 محکمہ تعلیم میں ایک ملین سے زائد مالیت کی مبینہ کرپشن اور مالی بے ضابطگیاں ثابت
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)فیصل آباد کے محکمہ تعلیم میں ایک ملین سے زائد مالیت کی مبینہ کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطحی انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی ۔
 انکوائری رپورٹ کے مطابق ڈپٹی ڈی ای او سٹی محمد شکیل پر سرکاری فنڈز میں خردبرد، جعلی ریکارڈ سازی اور خریداری میں بے ضابطگیوں کے الزامات ابتدائی طور پر ثابت قرار دیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 26 مئی 2026 کو ڈائریکٹر پنجاب (انکوائری افسر) نے مکمل انکوائری رپورٹ سفارشات کے ساتھ سیکرٹری اسکول ایجوکیشن پنجاب کو بھجوا دی، جس میں متعلقہ افسر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے اور پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ کے تحت محکمانہ کارروائی شروع کرنے کی سفارش کی گئی۔


انکوائری میں مجموعی طور پر 11 لاکھ 65 ہزار 373 روپے کی ریکوری کی سفارش کی گئی ہے، جس میں کنٹیجنسی گرانٹ، پٹرول مد اور باؤنڈری وال مرمت کے فنڈز میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ متعدد بل ایک ہی وینڈر کے نام پر تقسیم کر کے جاری کیے گئے جبکہ بعض اشیا اور تعمیراتی کام سرے سے انجام ہی نہیں دیے گئے۔ انکوائری افسر نے ملوث وینڈرز کے خلاف بلیک لسٹنگ کی کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرلیم مصنوعات پر عوام کوجلد اچھی خبر دیں گے،علی پرویزملک
ذرائع کے مطابق مالی بے ضابطگیوں کی انکوائری رپورٹ جمع کروائے جانے کے باوجود تین ہفتے گزر چکے ہیں، تاہم سیکرٹری تعلیم پنجاب کے دفتر سے تاحال کوئی عملی کارروائی سامنے نہیں آ سکی، جس پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔