وزارتِ منصوبہ بندی نے اُڑان پاکستان کے تحت اُڑان اے آئی ٹیکاتھون کا آغاز کردیا

Aug 19, 2025 | 09:49:AM
وزارتِ منصوبہ بندی نے اُڑان پاکستان کے تحت اُڑان اے آئی ٹیکاتھون کا آغاز کردیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)پاکستان کی ڈیجیٹل تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا، وزارتِ منصوبہ بندی نے اپنے فلیگ شپ پروگرام اُڑان پاکستان کے تحت اُڑان اے آئی ٹیکاتھون کا آغاز کرد یا

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات  احسن اقبال نے اسلام آباد میں افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا ٹیکاتھون صرف ایک مقابلہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جو پاکستان کی نئی نسل کو مصنوعی ذہانت جیسے جدید علم میں متحرک کرے گی۔

احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے عالمی انقلاب میں تماشائی نہیں  بلکہ ابھرتا ہوا رہنما ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کو متحرک کرنے، قومی استعداد کار میں اضافہ کرنے اور عالمی سطح پر پاکستان کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی صف میں نمایاں کرنے کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل نہیں بلکہ حال ہے جو صحت، تعلیم، زراعت، صنعت اور طرزِ حکمرانی کے ہر شعبے کو بدل رہی ہے۔ آج معیشتوں کو تشکیل دینے والے فیصلے ایوانوں میں نہیں بلکہ الگوردھمز میں ہوتے ہیں۔

احسن اقبال نے بتایا کہ ٹیکاتھون کے لیے ایک خصوصی آن لائن پورٹل قائم کیا گیا ہے جو رجسٹریشن، معلومات، رابطے اور تمام انتظامات کے لیے مرکزی مرکز کی حیثیت رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان سے پولیو کاخاتمہ کرکے بچوں کا مستقبل محفوظ بنائیں گے: وزیراعظم

علاوہ ازیں اسلام آباد میں رحمت اللعالمین اتھارٹی کے زیر اہتمام اسلام اور اقلیتیں کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد ہوا، جس میں مختلف مذاہب کی شخصیات، وفاقی وزراء اور ماہرین نے شرکت کی۔ سیمینار میں بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور مذہبی آزادی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  اسلامی ریاست کی بنیاد فتوحات پر نہیں بلکہ سماجی انصاف پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک میں اسلام تلوار یا جنگ سے نہیں بلکہ تاجروں کے کردار سے پھیلا،نائن الیون کے بعد امریکہ میں بنائی گئی ایک دستاویزی فلم میں بھی اسلامی ریاست کا اصل ماڈل سماجی انصاف کو قرار دیا گیا۔

احسن اقبال کے مطابق ریاست مدینہ میں سماجی انصاف وہ قوت تھی جس نے لوگوں کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست اور شہریت کا معاہدہ ہی معاشرے کی بنیاد ہے اور اسلام میں ریاست کا تصور انصاف سے جدا نہیں ہوسکتا، اگر کسی ریاست میں بنیادی انسانی حقوق نہ ہوں تو وہ ریاست خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں پر ظلم ہو تو ہم آواز بلند کرتے ہیں، لیکن اگر اپنے ملک میں زیادتی ہو تو خاموشی کیوں اختیار کی جاتی ہے؟

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو غیر محفوظ سمجھنا دو قومی نظریے کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانے والوں کا تصور قائداعظم اور علامہ اقبال کی ریاست تھا  اور ہمیں میثاق مدینہ جیسے ماڈل کی طرف بڑھنا ہوگا۔

اس موقع پر خورشید ندیم اور ڈاکٹر ریاض محمود کی کتاب اسلام اور اقلیتیں کی رونمائی بھی کی گئی۔

مقررین کا کہنا تھا کہ یہ کتاب امن، برداشت اور بھائی چارے کا پیغام اجاگر کرتی ہے۔