قومی اسمبلی اجلاس،اپوزیشن کااحتجاج، بانی سے ملاقات تک بائیکاٹ کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(روزینہ علی)قومی اسمبلی اجلاس میں پی ٹی آئی ارکان نے سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہوکر احتجاج اور نعرے بازی کی۔اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بانی پی ٹی سے ملاقات کرنے تک اسمبلی بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ جب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی جاتی نہ اسمبلی میں بیٹھیں گے نہ بجٹ کا حصہ بنیں گے۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں ہوا،ڈپٹی سپیکر نے کہاکہ کچھ سوالات کے جوابات نہیں آئے ہیں، عطا اللہ تارڑ نے کہاکہ تین سال کا ڈیٹا تھا جس کو کمپائل کرنے میں وقت لگا، ہم نے دفتر میں جمع کرا دیئے ہیں، میں ان کے جوابات ایک ایک کر رہے دے دیتا ہوں، ڈیٹا کو کمپائل کرنے میں ہمیں بہت وقت لگا۔
شہلا رضا کے جیل کے اسسٹنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس کی بھرتی کے حوالے سے سوال پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ ہم پہلے جیل میں نئی ریکروٹمنٹ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے،اب کوئی نئی ریکروٹمنٹ نہیں کر رہے ۔
پیپلزپارٹی کے نوید قمر نے کہاکہ اسمبلی پیپر لیس ہو رہی ہے، اچھی بات ہے، اس کا متبادل ایک ایپ آنی تھی، کوئی ایسی چیز نہیں آئی ہے،یہ کس زمانے کے کمپیوٹر چلا رہے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بانی پی ٹی سے ملاقات کرنے تک اسمبلی بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ جب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی جاتی نہ اسمبلی. میں بیٹھیں گے نہ بجٹ کا حصہ بنیں گے،پچھلے اجلاس میں ایک گزارش کی تھی ، نرم الفاظ کی درخواست کی تھی،بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا مسئلہ ہے،ہم اس طرح اسمبلی میں نہیں بیٹھیں گے ،نہ بجٹ میں بیٹھیں گے۔
پی ٹی آئی ارکان نے سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہوکر احتجاج اور نعرے بازی کی۔شرم کرو حیا کرو بانی پی ٹی آئی کو رہا کرو، پی ٹی آئی ارکان نے ایوان میں نعرے لگادیئےاوراپوزیشن ارکان نے اپنی تقریریں کی،پی ٹی آئی ارکان نے اسمبلی اجلاس میں اپنی اسمبلی لگا لی،پی ٹی آئی ارکان سپیکر ڈائس کے سامنے نیچے زمین پر بیٹھ گئے ،ایک کے بعد دوسرا رکن باری باری تقریر کرتا رہا۔
شیر افضل مروت نے کہاکہ شناختی کارڈ میں جو چپ لگی ہوتی ہے اس کے کیا فوائد ہیں، طلال چودھری نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ ڈیٹا کو ریڈایبل بنانے کیلئے چپ کا استعمال کیا تھا، اب اس سے بھی اگلی ٹیکنالوجی پر چلے گئے ہیں۔
طارق فضل چودھری کاکہناتھا کہ کوئی ایسا ڈیٹا نہیں ہے کہ پاکستانیوں کو یو اے ای یا گلف ممالک سے ڈی پورٹ کیا جارہا ہے،منفی اور پراپیگنڈا خبر سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی تھی۔
طلال چودھری کاکہناتھا کہ دو لاکھ 96 ہزار گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگائے گئے، ہر ایم ٹیگ کے لئے اڑھائی سو فیس ایف ڈبلیو نے وصول کی ہے۔انہوں نے کہاکہ سالڈ ویسٹ کو آؤٹ سورس کرنے جا رہے ہیں ، اس میں کوئی انٹرنیشنل یا نیشنل فرم کو یہ ذمہ داری دی جائے گی، اسلام آباد میں کوئی ایسا اینٹوں کا بھٹہ نہیں جو ماحول خراب کر رہا ہو۔
نور عالم خان نے کہاکہ جو غیر قانونی طور پر شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بن جاتے ہیں ، ان افسران کے خلاف آپ نے کیا کیا؟ طلال چودھری نے کہاکہ بے شمار شناختی کارڈ منسوخ کئے گئے، دو سال سے مسلسل پاکستان کے پاسپورٹ کی ریٹنگ میں اضافہ ہوا ہے،اس کی ہر سال میں بہتری آئے گی،ہم نے پاسپورٹ میں تبدیلیاں کی ہیں، آج کل ہم پروفائلنگ کرتے ہیں، پچھلے سال آف لوڈ پانچ گنا زیادہ کئے ہیں۔
اپوزیشن نے شور شرابے اور احتجاج کے بعد اجلاس کا واک آؤٹ کیا،شاہد خٹک نے کورم کی نشاندہی کی،ایوان میں گنتی کے بعد کورم پوراہونے پر، اجلاس کی کارروائی جاری رہی۔
اجلاس میں پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ترمیمی بل ،مالیاتی ادارے مالیات کی وصولی ترمیمی بل بھی منظورکرلیاگیا۔
یہ بھی پڑھیں:تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ، پاکستان میں بھی بڑھنے کا امکان