ایران سے رواں برس 20 لاکھ افغانیوں کو ملک بدر کر دیا جائے گا: وزیر داخلہ اسکندر مومنی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک )ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا کہنا ہے کہ ایران میں 60 لاکھ سے زائد افغان شہری موجود ہیں ، اور پہلے مرحلے میں رواں برس کے آخر تک کم از کم 20 لاکھ افغان اپنے ملک واپس جائیں گے۔
اسکندر مومنی جو ایران سے افغانوں کی ملک بدری کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں ایران کی مشرقی سرحدوں کا دورہ کیا ہ ، انھوں نے آج مشہد پہنچنے پر صحافیوں کو بتایا کہ اس سال کے آغاز سے اب تک تقریباً 1.2 ملین غیر قانونی افغان شہری اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔
ایرانی وزیر داخلہ کے مطابق ان میں سے 70 فیصد سے زیادہ افراد نے رضاکارانہ طور پر اور خود شناخت کی ہے کہ وہ ایران چھوڑ چکے ہیں۔
اسکندر مومنی نے اس بات پر زور دیا کہ اس کارروائی کا مطلب ’اینٹی امیگریشن‘ نہیں ہے اور ہر ممالک کے غیر ملکی شہریوں کے حوالے سے مخصوص ضابطے ہیں۔
افغانوں کی ملک بدری کے دوران ایران سے افغانیوں کی ملک بدری کے طریقہ کار پر متعدد بار تنقید کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:تحریک انصاف کیلئے ایک اور دھچکا، عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
اس سے قبل ایرانی وزارت داخلہ میں غیر ملکی شہریوں اور تارکین وطن کے امور کے مرکز کے سربراہ نادر یارحمادی نے کہا تھا کہ ان میں سے 2.1 ملین افراد کے پاس قانونی دستاویزات موجود ہیں۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کا کہنا ہے کہ ایران سے ملک بدر کیے گئے 70 فیصد افغانوں کو زبردستی افغانستان واپس بھیجا گیا ہے۔
ایرانی وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ یہ واپسی قانونی طریقہ کار کے مطابق اور انسانی وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کی جائے گی اور اس سلسلے میں نیشنل مائیگریشن آرگنائزیشن بھی ضروری تحقیقات کرے گی۔
ایرانی وزیر داخلہ آج دوغارون بارڈر کا دورہ بھی کریں گے۔
ایرانی حکومت نے ’غیر قانونی‘ افغانوں کی واپسی کے لیے گذشتہ سال مارچ میں ڈیڈ لائن کا اعلان کیا تھا، لیکن 12 روزہ اسرائیل ایران جنگ کے بعد اس عمل میں بہت تیزی آئی۔