اسرائیل نے ایران کے 'ڈی فیکٹو لیڈر' علی لاریجانی کا کیسے پتہ لگایا، یروشلم پوسٹ کی رپورٹ

Mar 17, 2026 | 19:15:PM
اسرائیل نے ایران کے 'ڈی فیکٹو لیڈر' علی لاریجانی کا کیسے پتہ لگایا، یروشلم پوسٹ کی رپورٹ
کیپشن: علی لاریجانی (بائیں)  کی ولیِ فقیہہ آیت اللہ علی خامنہ ای (دائیں) کے ساتھ 10 اکتوبر 2016 کو گفتگو کے دوران یہ تصویر بنائی گئی۔ لاری جانی کو طویل عرصہ سے ایران مین خامنہ ای کے دستِ راست کی حیثیت حاصل تھی جو فوجی اور سیاسی لوگوں کے درمیان اہم ترین رابطہ کار کے ساتھ بعد مین ایران کی امریکہ کے ساتھ پیچیدہ مذاکرات میں خامنہ ای کے با اعتماد نمائندہ کی حیثیت سے شریک ہوئے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  ایران میں سرکاری حکام اور میڈیا خاموش ہیں لیکن اسرائیل کے میڈیا میں بتایا جا رہا ہے کہ اسرائیل نے اپنے نمبر ون ٹارگٹ، شہید ولیِ فقیہہ آیت اللہ خامنہ ای کے دستِ راست  علی لاریجانی اور غلام رضا سلیمانی کو کیسے ڈھونڈا ۔ علی لاریجانی اور غلام رضا سلیمانی الگ الگ مقامات پر تھے، ان کو شہید کرنے کے لئے دو الگ سکواڈ بھیجے گئے۔

 اسرائیل کے اخبار یروشلم پوسٹ نے لکھا، علی لاریجانی کو اسرائیل میں ڈی فیکٹو لیڈر سمجھا جاتا تھا۔علی لاریجانی، خامنہ ای کے بعد  اسرائیل کا نمبر ایک ہدف تھے، جس کا پتہ لگانے کے لئے اسرائیلی فورسز نے کئی ہفتے کوشش کی اور گزشتہ رات  ان کا سراغ لگتے ہیں حملہ کر کے  مار ڈالا۔ 

یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق   "خصوصی صلاحیتیں" لاریجانی کو ٹریک کرنے کا ذریعہ بیں اور  آئی ڈی ایف کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل  ایال ضمیر کے سیاسی قیادت کے ساتھ برق رفتار کمیونیکیشن اور فیصلےنے اس قتل کو ممکن بنایا۔ 

اسرائیل کے دفاعی ذرائع نے بتایا کہ انٹیلی جنس کو اعلیٰ فیصلہ سازوں کے ساتھ جوڑنے کے برق رفتار عمل نے آپریشنل کامیابی کی راہ ہموار کی۔ یروشلم پوسٹ نے یہ کنفرم کیا کہ  علی لاریجانی اور غلام رضا سلیمانی کا سراغ لگنے کے بعد اسرائیل کی فوج کے سربراہ جنرل ایال ضمیر نے سیاسی قیادت کے ساتھ ڈسکس کرنے کے بعد سیاسی قیادت کے حکم سے  فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کو 1,600 کلومیٹر دور ایک نئے اہم مشن پر روانہ کرنے کا حکم دیا۔

Caption  ایران کے سیکورٹی چیف علی لاریجانی 27 ستمبر 2025 کو بیروت کے جنوبی مضافات میں، لبنانی شیعہ تحریک حزب اللہ کے  رہنما حسن نصر اللہ کے قتل کی پہلی برسی کے موقع پر ایک تقریب میں شریک ہیں۔


ایران کے سیکورٹی چیف علی لاریجانی 27 ستمبر 2025 کو بیروت کے جنوبی مضافات میں، لبنانی شیعہ تحریک حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کی طرف سے ان کے دیرینہ رہنما حسن نصر اللہ کے قتل کی پہلی برسی کے موقع پر ایک تقریب میں شریک ہیں۔
(تصویر کریڈٹ: انور امرو/اے ایف پی)
ایران کی طرف سے علی لاریجانی کے پیر اور منگل کی درمیانی شب اسرائیلی ائیر فورس کے حملے میں شہید ہونے کی وائیڈ سپریڈ خبروں کے متعلق منگل کی شام تک کوئی رسمی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی البتہ علی لاریجانی کے ٹیلی گرام اور ایکس پر بنے اکاؤنٹس سے ایک ہاتھ سے لکھی تحریر پوسٹ کی گئی جس پر کوئی تاریخ اور وقت درج نہیں، کہا جا رہا ہے کہ یہ علی لاریجانی کا آج ہونے والی ایک تعزیتی تقریب کے لئے اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا بیان ہے۔

اس دوران آج دوپہر اسرائیل کی نیوز آؤٹ لیٹ یروشلم پوسٹ نے  ایک خبر شائع کی جس میں بتایا گیا کہ علی لاریجانی کو کیسے مارا گیا۔ اس خبر پو یروشلم پوسٹ نے سہ پہر  ساڑھے تین بجے (پاکستان میں ساڑھے پانچ بجے شام) اپ ڈیٹ کیا اور سوشل میڈیا سامنے آنے والے پر علی لاریجانی کے زندہ ہونے کے موہوم ثبوت کو کوئی اہمیت نہیں دی۔
یروشلم پوسٹ کی رپورٹ میں  اسرائیل کے سینئر دفاعی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس اور آپریشنل وسائل علی لاریجانی کا پتہ لگانے کے لی بروئے کار لائےگئے تھے۔

Caption لاریجانی کو ایران کے اندر کی سیاست اور ایران کی دنیا کے ساتھ معاملت میں یکساں مہارت کا حام لسٹریٹیجسٹ سمجھا جاتا تھا۔ انہیں امریکہ کے ساتھ  ایران کی پیچیدہ کونفلکٹ میں میز پر خامنہ ای کے خیالات کے ساتھ جڑ کر لڑنے والا مجاہد سمجھا جاتا ہے۔

تاہم لاریجانی کو تلاش کرنا آسان نہیں تھا۔ وہ پتہ لگانئے جانے سے گریز کرنے میں ایک تجربہ کار ہاتھ ہے اور انہوں نے تاخیر اور اسرائیل کی طرف سے  حملہ ہونے سے بچنے کے لیے متعدد احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔

اسرائیل کے فوجی ذرائع نے بتایا کہ علی لاریجانی پچھلے دو ہفتوں کے دوران مسلسل مختلف خفیہ مقامات پر رہے تھے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ لاریجانی نے دو ہفتوں تک اسرائیل کے نشانے پر آنے سے بچنےکے لیے جس حد تک احتیاطی تدابیر اختیار کیں اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی زندہ بچ جانے والی اعلیٰ قیادت ممکنہ شکار کئے جانے کا  کس قدر گہرا احساس رکھتی ہے۔

 بسیج لیڈر کو عارضی خیمے میں قتل کیا گیا
ایران کی پیرا ملٹری پولیس بسیج کے قومی رہنما ک غلام رضا سلیمانی  ایک حقیقی سرکاری بسیج ہیڈ کوارٹر میں پتہ لگان لئے جانےسے بچنے کی کوشش میں عارضی خیموں مین رہ رہے تھے۔ انہین ایک خیمے میں پایا گیا اور قتل کر دیا گیا۔

یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق   "خصوصی صلاحیتیں" لاریجانی کو ٹریک کرنے کا ذریعہ بیں اور  آئی ڈی ایف کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل  ایال ضمیر کے سیاسی قیادت کے ساتھ برق رفتار کمیونیکیشن اور فیصلےنے اس قتل کو ممکن بنایا۔

دفاعی ذرائع نے بتایا کہ انٹیلی جنس کو اعلیٰ فیصلہ سازوں کے ساتھ جوڑنے کے برق رفتار عمل نے آپریشنل کامیابی کی راہ ہموار کی۔ یروشلم پوسٹ نے یہ کنفرم کیا کہ  علی لاریجانی اور غلام رضا سلیمانی کا سراغ لگنے کے بعد اسرائیل کی فوج کے سربراہ جنرل ایال ضمیر نے سیاسی قیادت کے ساتھ ڈسکس کرنے کے بعد سیاسی قیادت کے حکم سے  فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کو 1,600 کلومیٹر دور ایک نئے اہم مشن پر روانہ کرنے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیئے:  علی لاریجانی کا ہاتھ سے لکھا بیان ایرانی میڈیا پر آ گیا

ایک بار پھر، اسی شام میں، لاریجانی کو قتل کر دیا گیا، اور بسیج کے اعلیٰ عہدیداروں کو، بالکل مختلف مقامات پر، بغیر کسی غلطی کے مار دیا گیا۔

یہ سب کچھ دور دراز ایران میں ہوا، جو کہ غزہ یا لبنان کے متعدد مقامات پر جو ہوائی جہاز کے ذریعے صرف چند منٹوں کے فاصلے پر ہیں، پر فوری فیصلے کرنے سے کہیں زیادہ چیلنجنگ ہے۔

اسرائیل کے فوجی ذرائع نے  کہا کہ اس قتل سے امریکہ کو مختلف جنگی اہداف کے حصول کے لیے اس کی موجودہ اسٹریٹجک صورتحال میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  یہ امن کا وقت نہیں، امریکہ اور اسرائیل کو شکست دینا ہو گی، ایران کے سپریم لیڈر نے کشیدگی کم کرنے کی تجاویز مسترد کردیں