6 پولیس اہلکاروں کا قتل؛ سپریم کورٹ سے تمام افراد کی سزائےموت ختم کرکےبری کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے پنڈی گھیب میں پولیس اہلکاروں کے قتل کے مقدمہ مین موت کی سزا پانے والے تمام ملزموں کو بری کر دیا۔ سپریم کورٹ نے مقدمہ مین شناخت پریڈ کے عمل کو مشکوک قرار دیا اور یہ قرار دیا کہ ملزم تو ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم نے پنڈی گھیب قتل اور دہشت گردی کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ انہوں نے قتل اور دہشت گردی کے مقدمے میں زیریں عدالت سے موت کی سزا پانے والے تمام افراد کو بری کردیا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم نے پنڈی گھیب قتل اور دہشت گردی کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے ملزمان کو دی گئی سزائے موت کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے۔
سپریم کورٹ نے دو عدالتوں سے سزا یافتہ مجرموں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا اور قرار دیا کہ کہ یہ لوگ ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھا۔ تفتیش کے دوران شناخت کا عمل مشکوک ہے۔ سپریم کورٹ کے جج نے اس مقدمہ کے گواہوں کو بھی مشکوک قرار دیا۔ تحریری فیصلہ مین لکھا کہ گواہوں کا موقعہ پر موجود ہونا اور اتنے بڑے حملے میں کسی خراش کا نہ آنا غیر فطری ہے، لہٰذا شناخت پریڈ قانونی طور پر ناقابل قبول اور غیر محفوظ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ امن کا وقت نہیں، امریکہ اور اسرائیل کو شکست دینا ہو گی، ایران کے سپریم لیڈر نے کشیدگی کم کرنے کی تجاویز مسترد کردیں
یکم مئی 2011 کو پنڈی گھیب میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ سے سب انسپکٹر محمد رمضان سمیت 6 اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ ملزموں پر آئل ٹینکرز کو آگ لگانے اور سرکاری اسلحہ چھیننے کا سنگین الزام بھی تھا۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ کہ شناخت پریڈ سے پہلے ہی ملزمان کی شناخت پولیس پر ظاہر ہو چکی تھی، پولیس کے مطابق ملزمان نے ایک کیس میں پنڈی گھیب واقعے کا اعتراف کیا۔ جس کیس میں اعتراف ہوا اس میں ملزم بری ہو چکے ہیں۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ کہ پہلے کیس میں بریت کے بعد مجرم قرار دیئے گئے افراد کا اعتراف قانونی حیثیت کھو چکا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ٹھوس اور آزادانہ شہادتیں پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے، اس لیے ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔
ٹرائل کورٹ نے سپریم کورٹ سے بری ہونے والوں کو 6،6 بار سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی سزاؤں کو برقرار رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیئے: علی لاریجانی کا ہاتھ سے لکھا بیان ایرانی میڈیا پر آ گیا