اب دودھ اُبل کر برتن سے باہر نہیں گرے گا، 13 سالہ طالبعلم کاحیرت انگیز کارنامہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
( ویب ڈیسک ) دودھ ہر گھر میں استعمال ہوتا ہے اور اکثر گرم کرتے وقت اُبل کر برتن سے باہر گر کر جاتا ہے تاہم اب ایسا نہیں ہوگا۔
دودھ قدرت کی بڑی نعمت ہے، جو ہر گھر میں استعمال ہوتی ہے, دودھ استعمال سے قبل اُبالا جاتا ہے تاکہ جراثیم ختم ہو جائیں۔ تاہم اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دودھ ابالتے وقت کوئی نہ کوئی کچن میں ہوتا ہے، لیکن جہاں کچھ توجہ بھٹکے یا وہ باورچی خانے سے اِدھر اُدھر ہو تو دودھ اُبل کر برتن سے باہر جا گرتا ہے، جیسے کہ وہ اسی وقت کا انتظا کر رہا ہو۔
دودھ ابل گرنے سے نہ صرف مالی نقصان ہوتا ہے، بلکہ باورچی خانہ بھی گندا ہو جاتا ہے۔ تاہم اب اس بڑے مسئلے کا آسان حل نکل آیا ہے اور ایک ایسا آلہ ایجاد کر لیا ہے، جو دودھ ابلنے سے قبل ہی بج اٹھتا ہے۔
یہ حیرت انگیز ایجاد بھارتی شہر حیدرآباد دکن کے 13 سالہ ہونہار طالبعلم ویدت نے صرف 1500 روپے سے بنائی ہے۔ یہ آلہ آئی آر سنسر پر مبنی ہے اور بجلی نہ ہونے پر بھی چلتا ہے۔ اس آلے کو ’’ملک اوور فلو ڈٹیکٹر‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ارشد شریف قتل کیس میں اہم پیشرفت
’’ملک اوور فلو ڈٹیکٹر‘‘ میں آئی آر سنسر نصب ہے جو دودھ کے اُبال سے پیدا ہونے والی مخصوص حرارتی تبدیلیوں کو فوراً محسوس کرتا ہے۔ جیسے ہی دودھ حدِ حرارت عبور کرتا ہے، سنسر ایک سگنل سرکٹ کو بھیجتا ہے، جس کے بعد ساتھ نصب بزر بج اُٹھتا ہے اور کچن میں موجود افراد کو بروقت اطلاع مل جاتی ہے۔
یہ آلہ موبائل پاور بینک سے چلتا ہے، اس لیے بجلی نہ ہونے کی صورت میں بھی اس کی کارکردگی برقرار رہتی ہے۔
ویدت کا کہنا ہے کہ اس نے کئی بار اپنے گھر میں دیکھا کہ اس کی والدہ جب چولہے پر دودھ رکھ کر دوسرے کاموں میں مصروف ہوتی تو دودھ ابل کر گر جاتا تھا۔ ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ایسا آلہ بنائے گا جو اُبال کو پہلے ہی محسوس کر لے۔
یہ خیال آتے ہی اس نے الیکٹرانک مارکیت کا رخ کیا اور وہاں سے انفراریڈ سنسر، سرکٹ کے پرزے، موبائل پاور بینک اور دیگر اجزا خریدے۔ گھر آ کر اس نے اسکول میں سیکھی گئی روبوٹکس اور سائنس کی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے پورا سسٹم جوڑ لیا۔ اس پراجیکٹ پر تقریباً 1500 روپے خرچ ہوئے۔
ویدت کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا بچپن ہی سے غیر معمولی تجسس اور تخلیقی سوچ رکھتا ہے۔ وہ کھلونوں تک کے پرزے کھول کر سمجھنے کی کوشش کرتا اور چھوٹے چھوٹے تجربات سے نئی چیزیں پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اس کامیاب ایجاد نے انہیں بے حد خوش کیا ہے۔