برطانیہ میں بے روزگاری چار برسوں کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی

Dec 17, 2025 | 11:16:AM
برطانیہ میں بے روزگاری چار برسوں کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی۔
قومی ادارۂ شماریات کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح میں ہوشربا اضافہ سامنے آیا ہے جو 5.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے، یہ اعداد و شمار اکتوبر تک کے تین ماہ کے ہیں جو گزشتہ ماہ پیش کیے گئے جبکہ اس سے گزشتہ سہ ماہی میں یہ شرح 5 فیصد تھی۔
او این ایس کا کہنا ہے کہ بے روزگاری کی یہ شرح جنوری 2021 کے بعد سب سے زیادہ ہے، تاہم اگر کووڈ کی وبا کا دورانیہ نکال دیا جائے تو بھی یہ ابتدائی 2016 کے بعد بلند ترین سطح بنتی ہے۔
معاشی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بے روزگاری میں ہونے والے اس اضافے سے یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ بینک آف انگلینڈ بہت جلد شرحِ سود میں کمی کردے گا۔
دفتر برائے قومی شماریات کا مزیدکہنا ہے کہ بےروزگاری کی یہ شرح لیبر مارکیٹ پر دباؤ کی عکاس ہے، اکتوبر تک کی سہ ماہی میں تنخواہوں میں اوسط اضافہ 4.6 رہا، نجی شعبے میں یہ اضافہ 4.2 فیصد سے کم ہوکر 3.9 فیصد رہا تو سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ 6.6 فیصد سے 7.6 فیصد تک ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:نئی سفری پابندیاں، مزید 20 ممالک کے شہری امریکا داخلے سے محروم
تازہ اعداد و شمار کے مطابق بونس کے علاوہ تنخواہوں میں اضافہ اشیا ءکی قیمتوں کی بڑھنے کی شرح سے اب بھی زائد ہے، بونس کے بغیر اجرتوں میں اضافہ اکتوبر میں کم ہو کر 4.6 فیصد رہ گیا جو ستمبر میں 4.7فیصد تھا، یہ شرح ابتدائی 2022 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔
بے روزگاری الاؤنس لینے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے،اوریہ تعداد بڑھ کر 16 لاکھ 96 ہزار ہو گئی جو اگست میں 16 لاکھ 86 ہزار تھی۔
 خبر رساں ادارے رائٹرز کے سروے میں شامل ماہرین نے اکتوبر میں بے روزگاری کی شرح 5.1فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی تھی جو ستمبر میں 5 فیصد تھی۔