ایل سلواڈور میں 12 سالہ بچوں کو عمر قید دینےکی سزا کا قانون منظور کر لیا گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)وسطی امریکی ملک ایل سلواڈور میں حکومت نے ایک نیا قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت 12 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو سنگین جرائم پر عمر قید کی سزا دی جا سکے گی، یہ قانون 26 اپریل سے نافذ العمل ہو گا۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام صدر نایب بوکیلے کی سخت گیر پالیسیوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ملک میں گینگ جرائم کا خاتمہ کرنا ہے۔
نئے قانون کے تحت قتل، دہشت گردی اور زیادتی جیسے جرائم میں ملوث کم عمر افراد کو بھی بالغ مجرموں کی طرح سزا دی جا سکے گی۔
ایل سلواڈور میں مارچ 2022ء سے ہنگامی حالت نافذ ہے جس کے تحت کئی شہری حقوق کو معطل کر دیا گیا ہے اور پولیس و فوج کو وسیع اختیارات حاصل ہیں۔
مزید پڑھیں:تہران میں ریلی کے دوران ایرانی شہریوں کا پاکستان سے اظہار تشکر
اس دوران 90,000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ملک کی تقریباً 1.9 فیصد آبادی جیلوں میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے 2023ء میں اجتماعی مقدمات کی اجازت بھی دی تھی جس کے تحت ایک وقت میں 900 افراد تک کا ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف سمیت کئی عالمی تنظیموں نے اس قانون پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔