مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کشمیریوں کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے، ڈاکٹر سید نذیر گیلانی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(احمد منصور ) چیئرمین ہیومن رائٹس کونسل فار کشمیر ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کشمیری قوم کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مقیم کشمیری اس مطالبے کو مسترد کر چکے ہیں کیونکہ مہاجرین کی 12 نشستیں عالمی سطح پر آباد کشمیریوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کے بقول، مہاجرین کی نمائندگی کے بغیر آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی مکمل تصور نہیں کی جا سکتی۔
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے کہا کہ معاملہ صرف 12 نشستوں کا نہیں بلکہ تقریباً 25 لاکھ کشمیریوں کے حقِ رائے دہی اور سیاسی نمائندگی کا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کے حقوق کو کسی بھی صورت منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی اور غیر ریاستی کشمیری کی تفریق پیدا کرنا کشمیریوں میں تقسیم پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ "کشمیری جہاں بھی آباد ہو، وہ کشمیری ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ کسی مخصوص طبقے کی نمائندگی دوسرے کشمیریوں کے حقوق پر اثر انداز ہوگی،" انہوں نے کہا۔
ڈاکٹر گیلانی نے مزید کہا کہ آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کی مشاورتی رائے کے بعد احتجاج کی کوئی معقول وجہ باقی نہیں رہتی۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ مستقبل میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کو آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت ہی عمل میں لایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی مشاورتی رائے کے باوجود احتجاجی سرگرمیوں کا تسلسل عدالتی احترام کے تقاضوں کے منافی سمجھا جا سکتا ہے، جبکہ عدالتی فیصلوں اور اداروں کا احترام نہ کرنے سے معاشرے میں افراتفری پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستیں ختم کر دی گئیں تو تقریباً 25 لاکھ کشمیری سیاسی نمائندگی سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی کسی تبدیلی سے حقِ خودارادیت کے مؤقف اور اس کی سیاسی و سفارتی حیثیت پر بھی اثرات مرتب ہونے کا امکان موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں :آج جشن منانے کا دن ہے:فیصل واوڈا