مذاکرات: ایران کو 12 ارب ڈالر ملیں گے ؟ ایرانی میڈیا کا دعویٰ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان زیرِ غور 14 نکاتی مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے تحت واشنگٹن ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر مذاکرات کے آغاز سے قبل جاری کر سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی نیوز ایجنسی نے ایک ایسی دستاویز شائع کی ہے جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی تفصیلات ہیں، تاہم اس دستاویز کی تاحال کسی بھی فریق نے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
مجوزہ معاہدے میں یہ شق شامل ہے کہ مفاہمتی یادداشت طے پانے کے بعد شروع ہونے والے 60 روزہ مذاکراتی دور کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں:امریکہ اور اسرائیل کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا:ترجمان ایرانی افواج
دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ اس رقم کا نصف، یعنی 12 ارب ڈالر، مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ایران کو فراہم کیا جائے گا تاکہ اعتماد سازی کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ مفاہمت میں پابندیوں میں نرمی، اقتصادی تعاون اور جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر بھی بات چیت شامل ہو سکتی ہے۔
تاہم ابھی تک ایران یا امریکہ کی جانب سے اس دستاویز کی صداقت یا اس میں شامل نکات کی سرکاری توثیق نہیں کی گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور اقتصادی تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔