امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد مسترد کردی

Jan 15, 2026 | 10:10:AM
امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد مسترد کردی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کے لیے پیش کی گئی وار پاورز قرارداد کو مسترد کر دیا۔

قرارداد کی قسمت 50 کے مقابلے میں 50 ووٹوں پر آ کر رک گئی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ٹائی بریکنگ ووٹ دے کر اسے ناکام بنا دیا۔

اس قرارداد کا مقصد صدر ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید کسی بھی فوجی کارروائی سے پہلے کانگریس کی منظوری لینے کا پابند بنانا تھا۔

ڈیموکریٹک سینیٹرز نے متفقہ طور پر قرارداد کی حمایت کی، تاہم ریپبلکن پارٹی کے صرف 3 ارکان ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔
ابتدائی طور پر 5 ریپبلکن سینیٹرز نے قرارداد کو سینیٹ میں لانے کے حق میں ووٹ دیا تھا، جن میں ٹوڈ ینگ (انڈیانا) اور جوش ہالی (مسوری) بھی شامل تھے، مگر حتمی ووٹنگ سے قبل دونوں نے حمایت واپس لے لی۔

جوش ہالی نے ووٹنگ سے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ اب قرارداد کی حمایت نہیں کریں گے، جبکہ ٹوڈ ینگ آخری لمحات تک غیر یقینی حیثیت رکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:انتظار کی گھڑیاں ختم، آئی سی سی انڈر 19 ورلڈکپ آج سے شروع

بعد ازاں ٹوڈ ینگ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہیں اعلیٰ قومی سلامتی حکام سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وینزویلا میں اس وقت کوئی امریکی فوجی تعینات نہیں۔ اگر مستقبل میں بڑی فوجی کارروائی کی ضرورت پڑی تو ٹرمپ انتظامیہ پہلے کانگریس سے اجازت لے گی۔

انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا ایک خط بھی شیئر کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ حالات اجازت دیں تو کانگریس کو پیشگی اطلاع دی جائے گی۔

یہ قرارداد 3 جنوری کو صدر ٹرمپ کے اچانک اعلان کے بعد پیش کی گئی، جس میں انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت گرانے کے لیے فوجی کارروائی کا اعتراف کیا تھا۔

حملے کے دوران دارالحکومت کاراکاس اور فوجی اڈوں پر دھماکے ہوئے۔ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا گیا۔ 2 امریکی فوجی زخمی اور تقریباً 80 افراد ہلاک ہوئے، جن میں کیوبا کے سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔

صدر ٹرمپ نے خطاب میں کہا کہ ہم ملک چلائیں گے جب تک ایک محفوظ اور مناسب انتقالِ اقتدار ممکن نہ ہو جائے۔

مزید پڑھیں:‎زیر تربیت اے ایس پیز کو پاسنگ آؤٹ پر پلاٹ دئیے جائیں گے:محسن نقوی

صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تسلیم کیا کہ کانگریس کو حملے سے پہلے مطلع نہیں کیا گیا،روبیو کے مطابق یہ ایسا مشن تھا جس میں کانگریس کو اطلاع دینا ممکن نہیں تھا۔

ٹرمپ نے اس کی وجہ سیکیورٹی خدشات بتاتے ہوئے کہا کہ  کانگریس میں معلومات لیک ہو جاتی ہیں، ہم لیکس نہیں چاہتے تھے۔

امریکی آئین کے مطابق صدر افواج کا کمانڈر انچیف ہوتا ہے لیکن جنگ کا اعلان اور فوجی کارروائی کی اجازت دینا کانگریس کا اختیار ہے۔

تاہم 9/11 کے بعد منظور ہونے والی AUMFs کے تحت صدور نے یکطرفہ کارروائیاں کیں، مگر وینزویلا ان اجازت ناموں کے دائرے میں نہیں آتا، جس سے حملے کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھے۔

امریکی محکمہ انصاف نے ایک 22 صفحات پر مشتمل میمو جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ مادورو کی گرفتاری ایک “قانونی کارروائی” تھی، جنگ نہیں، اس لیے کانگریس کی اجازت ضروری نہیں تھی۔

میمو میں کہا گیا کہ اگر صدر جانتے ہوں کہ کارروائی جنگ میں بدل جائے گی تو اجازت لازم ہے، مگر دسمبر 2025 تک ایسے شواہد موجود نہیں تھے۔

کئی ریپبلکن سینیٹرز نے اس مؤقف سے اختلاف کیا، جن میں لیزا مرکوسکی، رینڈ پال اور سوزن کولنز شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ان سینیٹرز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ امریکا کے دفاعی اختیارات کمزور کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:خوشخبری! پیٹرولیم قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان، فی لیٹر کتنے روپے کم ہوں گے؟

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ووٹنگ سے قبل بعض سینیٹرز کو فون بھی کیے، جبکہ سوزن کولنز کے ساتھ گفتگو مبینہ طور پر سخت زبان میں ہوئی۔

سینیٹر رینڈ پال نے کہا کہ ان کا ووٹ آئین کی بالادستی کے لیے تھا کہ یہ ریپبلکن بمقابلہ ڈیموکریٹ کا معاملہ نہیں، بلکہ کانگریس اور صدر کے اختیارات کا ہے۔ آئین جنگ کا اختیار کانگریس کو دیتا ہے۔

قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے 3 ریپبلکن سینیٹرز میں سے صرف سوزن کولنز اس سال ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں دوبارہ انتخاب لڑ رہی ہیں، جس کے باعث ان کے لیے ٹرمپ کی مخالفت سیاسی طور پر زیادہ خطرناک سمجھی جا رہی ہے۔