26ویں آئینی ترمیم سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی 

Oct 14, 2025 | 15:42:PM
26ویں آئینی ترمیم سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس عائشہ ملک میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

 تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چھبیسویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی، سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آٹھ رکنی آئینی بینچ نے کی، انٹرنیٹ ایشو کی وجہ سے آج سماعت لائیو نشر نہیں ہوسکی۔

جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ انٹرنیٹ پرابلم ہے،ویڈیو لنک نشر نہیں کی جائے گی،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ لائیو سٹریمنگ کا لنک ڈاؤن ہے۔ 

سابق صدور سپریم کورٹ بارز کے وکیل عابد زبیری نے دلائل دیے،عابد زبیر نے اپنے دلائل میں کہا کہ پارٹی جج پر اعتراض نہیں کر سکتی، مقدمے سننے کا یا نہ سننے کا اختیار جج کے پاس ہے ہماری درخواست فل کورٹ کی ہے۔ 

جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ آپ فل کورٹ کی بات نہ کریں،آپ صرف کہیں وہ ججز جو ترمیم سے پہلے سپریم کورٹ میں موجود تھے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ رولز کے حوالے سے 24 ججز بیٹھے تھے، ان کے سامنے رولز بنے۔ 

جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ سب کے سامنے نہیں بنے میرا نوٹ موجود ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ میٹنگ منٹس منگوائے جائیں، سب ججز کو ان پٹ دینے کا کہا گیا تھا، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ آپ ریکارڈ منگوا رہے ہیں نا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس آگے نہیں چلے گا جب تک یہ کلیئر نہیں ہوتا۔ 

 
اٹارنی جنرل سے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اندرونی معاملہ ہے اس کو یہاں پر ڈسکس نہ کیا جائے،جسٹس جمال مندوخیل نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں مجھے جھوٹا کیا جا رہا ہے، 24 ججز کی میٹنگ ہوئی۔ کچھ شقوں کے حوالے سے معاملہ کمیٹی کو بھیجا گیا تھا۔ چند ججز نے آؤٹ پٹ دیا تھا اور چند نے نہیں دیا تھا، ایک طرف سولہ ججز کا کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف کلیکٹو وزڈم کی بات کر رہے ہیں، ہمارے سامنے اس وقت 191 اے موجود ہے جو آئین کا حصّہ ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں 191 اے کو سائڈ پر رکھ دیں، کیسے رکھیں؟ 

جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ اس حوالے سے ججمنٹ موجود ہے جس میں لکھا ہوا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس عائشہ ملک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کو جواب دینے دیں، بینچز سپریم رول کے مطابق بنائے جائیں گے۔

عابد زبیری نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ رول 2025 موجود ہے جس کا نوٹیفکیشن ہوچکا ہے، سپریم کورٹ رول کے آرڈر 11 کے مطابق کمیٹی بینچز بنائے گی۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ان رولز میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ بینچ چیف جسٹس بنائے گا۔ عابد زبیری نے اپنے دلائل میں کہا کہ فل کورٹ بینچ نہیں ہے، آج تک فل کورٹ کیسے بنے۔ آپ کی بھی ججمنٹ موجود ہے۔  

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ کے حوالے سے 2025 کے رول میں ہونا چاہیے تھا۔

جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ججز ایک دوسرے پر آواز اونچی نہ کریں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ میں پوری قوم کے سامنے سب واضح رکھوں گا، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ابھی لائیو سٹریمنگ نہیں چل رہی جو پوری قوم دیکھ رہی ہے۔

 جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ کمیٹی کے پاس بینچز بنانے کا اختیار ہے، فل کورٹ بنانے کا اختیار نہیں، کمیٹی کے اختیارات چیف جسٹس کے اختیارات نہیں کہلائے جاسکتے، دونوں مختلف ہیں، ہم بینچز نہیں بلکہ فل کورٹ کی بات کررہے ہیں۔ 

جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ کیا چیف جسٹس فل کورٹ بنا سکتےہیں جس میں آئینی بینچ کے تمام ججز ہوں؟ 

وکیل عابد زبیری نے دلائل دیے کہ چیف جسٹس کے پاس ابھی بھی فل کورٹ بنانے کا اختیار موجود ہے، وکیل عابدزبیری کی جانب سےمختلف فیصلوں کا حوالہ دیا گیا۔ جس میں کہا گیا کہ فل کورٹ تشکیل دینے کی ڈائریکشن دی جاسکتی ہے۔ 

جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ آپ ہمیں کہہ رہے کہ چیف جسٹس کو فل کورٹ بںانے کا کہیں، ماضی میں چیف جسٹس نے خود فل کورٹ تشکیل دیا۔

عدالت نے چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔