مجھے نہیں لگتا حکومت کے اقدامات سے چیزیں ٹھیک ہوں گی: عارف حبیب

Jun 14, 2026 | 18:38:PM
مجھے نہیں لگتا حکومت کے اقدامات سے چیزیں ٹھیک ہوں گی: عارف حبیب
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)نامور سرمایہ کار عارف حبیب نے کہا ہے کہ موجودہ حکومتی اقدامات سے فوری طور پر معاشی صورتحال میں نمایاں بہتری یا ملک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا آغاز ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران  وفاقی بجٹ 2026-27 کے بعد ملکی معیشت کا جائزہ لیتے ہوئے عارف حبیب نے کہا کہ توانائی کی بلند قیمتیں سرمایہ کاروں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، جس کے باعث غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔ ان کے مطابق ٹیکس کی شرح بھی اب تک نسبتاً زیادہ ہے، جس میں مزید کمی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے سپر ٹیکس کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری میں کمی کے باعث روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہو رہے، جبکہ برآمدات میں اضافے کے لیے توانائی کے نرخوں اور ٹیکسوں میں مزید ریلیف دینا ناگزیر ہے۔

عارف حبیب کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اس حوالے سے گنجائش موجود ہے، تاہم ایک اہم چیلنج ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونا ہے، جس کی نشاندہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بھی متعدد بار کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ کی تیاری کے دوران مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی، تنخواہ دار طبقے اور برآمد کنندگان کو کچھ ریلیف فراہم کیا اور آئی ایم ایف کو بھی اعتماد میں رکھا تاہم اصل سوال یہ ہے کہ ان اقدامات کے نتائج اور معاشی بہتری کتنی تیزی سے سامنے آتی ہے۔

دوسری جانب معروف سرمایہ کار زیاد بشیر نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں حکومت نے اپنی استطاعت کے مطابق اہم اقدامات کیے ہیں اور معیشت کو استحکام دینے میں کردار ادا کیا ہے۔

زیاد بشیر نے نشاندہی کی کہ ملک میں ویلیو ایڈیشن کے شعبے کو مطلوبہ توجہ نہیں دی جا رہی، جبکہ ریلوے فریٹ کا حصہ 5 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے، سڑکوں کے انفراسٹرکچر پر توجہ دی گئی، لیکن ریلوے نظام کو نظرانداز کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس شپنگ کے لیے مؤثر ڈائریکٹ پورٹ انفراسٹرکچر کی کمی ہے اور اگر بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل حل نہ کیے گئے تو عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :محرم الحرام کا چاند کل صبح 7 بج کر 54 منٹ پر پیدا ہونے کا امکان