2025 دنیا کا تیسرا گرم ترین سال تھا۔ کلائمیٹ کے ماہرین کی مستقبل کیلئے خطرناک وارننگ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) سال کے اختتام کے بعد سائنسدانوں نے تجزیہ کر کے بتایا ہے کہ 2025 دنیا کا تیسرا گرم ترین سال تھا۔ کلائمیٹ کے ماہرین نے مستقبل کیلئے خطرناک وارننگ بھی دی ہے۔
گزرے سال کے دوران موسم کے تجزیہ کے بعد بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 77 کروڑ افراد نے اپنے علاقوں میں ریکارڈ گرم موسم کا سامنا کیا
یورپی یونین اور امریکی ماہرین کے مطابق سال 2025 دنیا کا تیسرا گرم ترین سال ثابت ہوا۔ اس سال یہی تصدیق ہوئی کہ زمین پر غیر معمولی حدت کا سلسلہ مزید دراز ہو تا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس اور امریکی تحقیقی ادارے برکلے ارتھ کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ مسلسل11 سال دنیا کے گرم ترین سال رہے ہیں، جن میں 2024 سب سے زیادہ گرم جبکہ 2023 دوسرے نمبر پر رہا۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں پہلی مرتبہ عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں اوسطاً 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے۔
برکلے ارتھ کا کہنا ہے کہ 2023 سے 2025 کے دوران درجہ حرارت میں اضافہ غیر معمولی رہا، جو زمین کے تیزی سے گرم ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: پنجاب میں برفباری اور شدید سردی کی خبروں پر پی ڈی ایم اے کی تردید آ گئی
کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا یکے اوسط ٹمپریچر میں ڈیڑح ڈگری سیلسئیس( 1.5 ڈگری) کے اوسط اضافہ کی گزشتہ فورکاسٹ میں بتائی گئی یوقت کی حد اس دہائی کے اختتام سے پہلے ہی عبور ہو سکتی ہے، جو پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ جلد ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی اس حد کے عبور ہو جانے کو ناگزیر قرار دے چکے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری کمی سے نقصان کی مدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 2025 میں عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.47 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔ دنیا بھر میں تقریباً 77 کروڑ افراد نے اپنے علاقوں میں ریکارڈ گرم موسم کا سامنا کیا، جبکہ کہیں بھی ریکارڈ سرد سال درج نہیں ہوا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2026 میں بھی گرمی کا سلسلہ جاری رہے گا اور اگر ایل نینو موسمی نظام فعال ہوا تو یہ سال بھی ریکارڈ توڑ گرم ہو سکتا ہے۔