ایران جنگ سے روس کو روزانہ 150 ملین ڈالر اضافی آمدن ہونےلگی

Mar 13, 2026 | 18:02:PM
 ایران جنگ سے روس کو روزانہ 150 ملین ڈالر اضافی آمدن ہونےلگی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور آبنائےہرمز بند ہونے کی وجہ سے روس کو  تیل کی فروخت سے یومیہ 150 ملین ڈالر اضافی آمدن ہورہی ہے اور امریکہ روس کو ایران جنگ سے فائیدہ سمیٹتے ہوئے خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔

ایک برطانوی جریدے  کی رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے بعد  آبنائے ہرمز سے دنیا کو  خام تیل کی ترسیل میں کمی ہوئی تو روسی تیل کی مانگ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ بھارت اور چین روسی کروڈ آئل کے بڑے خریدار  بن گئے ہیں۔

برطانوی جریدے نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے روس کو تیل سے یومیہ 150 ملین ڈالر اضافی آمدن ہورہی ہے۔خام تیل کی برآمدات پر ٹیکس سے روس کو روزانہ  1.3 سے 1.9 ارب ڈالر غیر متوقع فائدہ ہو رہا ہے۔ کروڈ آئل کی بڑھی ہوئی قیمتیں برقرار رہیں تو مارچ میں روس کو 3.3 سے 4.9 ارب ڈالر اضافی آمدن ہوسکتی ہے۔

 بھارت کی روسی تیل کی امپورٹس  1.5 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں اور ان میں ایک ماہ میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  ایران کے ڈرون سے فرانس کا بھی فوجی مارا گیا 

 انڈیا کے فنانشل ایکسپریس میڈیا کے مطابق، گزشتہ مارچ میں بھی روسی خام تیل کی ہندوستانی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہتھا، اس وقت وجہ روسی کروڈ آئل کا مقابلتاً سستا ہونا تھی۔

گزشتہ سال مارچ مین بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ سستے روسی تیل کی ترسیل کے لئے غیر منظور شدہ ٹینکروں کی دستیابی میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے ہندوستانی کمپنیوں کے لیے تیل کی نقل و حمل آسان ہو گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں، ہندوستان کی روسی تیل کی درآمدات مارچ میں پچھلے مہینوں میں کمی کے بعد دوبارہ بڑھیں۔گزشتہ سال مارچ کے پہلے  21 دنوں میں بھارت میں روسی تیل کی درآمدات میں  نمایاں اضافہ ہوا، جس کی اوسطاً 1.85 ملین بیرل یومیہ (bpd) تھی۔ یہ فروری میں درآمد کیے گئے 1.47 ملین بی پی ڈی اور جنوری میں درآمد کیے گئے 1.64 ملین بی پی ڈی سے کافی اضافے کی نشاندہی کر رہا تھا۔ 

یہ بھی پڑھیئے:   ایران میں جنگ ایسے حملوں کا جواز نہیں بن سکتی،صدر میخواں کا فرنچ فوجی کی ایرانی ڈرون سےموت پر احتجاج

گزشتہ سال مارچ میں ہندوستان کی تیل کی کل درآمدات میں روسی تیل کا حصہ 35 فیصد تھا، جو فروری میں تقریباً 31 فیصد تھا۔

فروری 2025 میں امریکہ کی ماسکو کے خلاف مزید مغربی پابندیوں کے آغاز کے بعد، ہندوستان نے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک روسی تیل خریدنا جاری رکھے گا جب تک کہ اسے 60 امریکی ڈالر فی بیرل قیمت کی حد سے نیچے فروخت کیا جائے گا، یہ تیل غیر منظور شدہ(سستے) ٹینکروں پر منتقل کیا جائے، اور اس لین دین میں منظور شدہ کمپنیاں یا افراد شامل نہ ہوں۔ان اقدامات کا اثر ہندوستان، دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک، جو سمندری راستے سے خام تیل کی ترسیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اور چین، دنیا کا سب سے بڑا درآمد کنندہ، دونوں پر پڑا تھا۔

گزشتہ مارچ کے بالکل برعکس صورتحال اس مارچ میں ہے جب امریکہ خود روسی کروڈ آئل کی دنیا کو ترسیل  کی حمایت کر رہا ہے، روسی کروڈ آئل پر اپنی عائد کردہ پابندیاں ہٹا چکا ہے اور نیویارک میں کروڈ آئل کی قیمتیں بے تحاشا بڑھنے کا روس کو جی بھر کر فائدہ اٹھاتے ہوئے خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھیئے:  عوام کیلئے پریشان کن خبر!پیٹرول 51، ڈیزل81روپے فی لیٹر مہنگا ہونے کا امکان