صدی کا طویل ترین سورج گرہن کب ہوگا؟

Dec 13, 2025 | 14:17:PM
صدی کا طویل ترین سورج گرہن کب ہوگا؟
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)دنیا بھر کے فلکیات کے شائقین اور سائنسدان ایک نایاب فلکیاتی مظہر کا انتظار کر رہے ہیں، جسے اس صدی کے سب سے شاندار اور طویل ترین سورج گرہنوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

 اس میں زمین، چاند اور سورج ایک ایسی نادر سیدھ میں آئیں گے کہ چاند، سورج کی روشنی کو مکمل طور پر روک دے گا، جس سے کئی علاقوں میں دن تبدیل ہوکر رات کی طرح تاریک ہو جائے گا۔

 گرہن اس لحاظ سے منفرد ہو گا کہ مصر کے تاریخی شہر ‘لکسر’ کے قریب یہ 6 منٹ اور 23 سیکنڈز تک قائم رہے گی، جو اس صدی کے کسی بھی زمینی مقام پر سب سے لمبے دورانیے کا گرہن ہوگا۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب میں مسٹر بیسٹ کی پہلی ویڈیو نے ریکارڈ توڑ دیا

سورج گرہن کی مکمل لکیر (Path of Totality) جنوبی یورپ، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک سے گزرے گی۔

 ان میں سپین کے کچھ علاقے، مراکش، الجزائر اور تیونس، لیبیا، مصر، سعودی عرب، یمن اور صومالیہ کے علاقے شامل ہیں۔

گرہن کی ابتدا مشرقی امریکا کے سمندر سے ہوگی اور یہ سفر تقریباً پانچ ہزار کلومیٹر طے کر کے بحرِ احمر کے پار افریقہ سے مشرق وسطیٰ تک پھیلے گا۔

مزید پڑھیں:

مکمل گرہن کے دوران آسمان یکایک مدھم پڑ جائے گا، جیسے سورج غروب ہونے سے کچھ دیر قبل روشنی پھیلتی ہے۔

 جانوروں میں غیر معمولی چپ سادھ لی جائے گی، پرندے گھونسلوں کا رخ کریں گے، اور ستارے و سیارے دن کے وقت نمایاں ہوں گے۔

اس لمحے سورج کا کرونہ یعنی اُس کی بیرونی فضا، چاند کے گرد ایک چمکتی ہوئی انگوٹھی کی صورت میں دکھائی دے گا، جو ایک دلکش منظر تخلیق کرے گا۔

ماہرین اسے فلکیاتی تحقیق کرنے والوں اور عوامی آگاہی کے لیے ایک قیمتی موقع قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس دوران شمسی فضا، درجہ حرارت اور روشنی پر تجربات کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے بیشتر حصوں میں اس دن جزوی سورج گرہن نظر آئے گا۔