ریموٹائیڈ آرتھرائٹس اور آسٹیو آرتھرائٹس دو مختلف بیماریاں ہیں:پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد سعید
بروقت تشخیص اور علاج کے نتیجے میں معذوری سے بچا جا سکتا ہے،’’مارننگ ودفضا‘‘میں گفتگو
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) طبی ماہرین کے مطابق ریموٹائیڈ آرتھرائٹس اور آسٹیو آرتھرائٹس دو مختلف بیماریاں ہیں، عام طور پر 50 برس کی عمر کے بعد آسٹیو آرتھرائٹس لاحق ہوتا ہے جبکہ ریموٹائیڈ آرتھرائٹس 18 سے 45 برس کی عمر کے مرد و خواتین کو متاثر کر سکتا ہے۔
24نیوزکے پروگرام ’’مارننگ وِد فضا‘‘ میں میزبان فضاعلی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے معروف ریموٹالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد سعید نے کہا کہ یہ بیماری قوتِ مدافعت کے نظام میں بگاڑ کے باعث پیدا ہوتی ہے، جس میں جسم اپنے ہی جوڑوں میں سوزش پیدا کرنے لگتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد سعید نے کہا آلودگی اور سموکنگ بھی اس مرض کے اہم عوامل ہیں، سموکرز نہ صرف دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں بلکہ آرتھرائٹس کے بھی زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں،انہوں نے کہاکہ حقہ، سگریٹ اور ویپ سب یکساں طور پر مضر صحت ہیں، ماہرین صحت مند ڈائٹ میں زیتون کا تیل، مچھلی اور کم چکنی غذا کے استعمال کی تجویز دیتے ہیں جبکہ تلی ہوئی اشیاء اور پراسسڈ فوڈ جیسے پیزا پر لگنے والے ساسجز سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اپنی چھت اپنا گھر منصوبہ:مستحق افراد کو 15 لاکھ بلاسود قرض ملے گا
پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد سعید نے مزیدکہا کہ اگر جوڑوں میں درد، ورم یا اکڑن چھ ہفتے سے زائد برقرار رہے تو فوری طور پر یموٹالوجسٹ سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ عام ڈاکٹر اس مرض کی درست تشخیص نہیں کر سکتا، ریوموٹائیڈ آرتھرائٹس کی بروقت تشخیص اور علاج سے معذوری سے بچا جا سکتا ہے اور اس کی دوائیں مہنگی بھی نہیں ہوتیں۔
پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد سعید نے کہا اگر مرض قابو میں نہ آئے تو ٹارگٹڈ تھراپی موجود ہے جسے طویل عرصے تک استعمال کیا جا سکتا ہے، یہ مرض خواتین میں مردوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ پایا جاتا ہے جو اکثر ہارمونل تبدیلیوں کے باعث ہوتا ہے،وٹامن ڈی کی گولیاں یا سنی ڈی ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنی چاہیئے۔