خواتین کو گھرسے نکالنے پر سخت سزا اور جرمانہ، ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)قومی اسمبلی میں آج خواتین کو غیر منصفانہ طور پر گھر سے بے دخل کرنے کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کے لیے ترمیمی بل پیش کر دیا گیا۔ تعزیرات پاکستان کی مختلف شقوں میں ترامیم کا بل پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی نےایوان میں پیش کیا۔
تفیصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں تعزیرات پاکستان کی مختلف شقوں میں ترامیم کا بل پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی نےایوان میں پیش کیا۔ بل کی مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ شوہر یا گھر کے کسی فرد کی جانب سے غیر منصفانہ طور پر خاتون کو گھر سے نکالنا جرم قرار دیا جائےجبکہ خاتون کو گھر سے نکالنے پر 3 سے 6 ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جرم کا ارتکاب کرنے پر 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ خاتون کو گھر سے نکالنے کے مقدمات کی سماعت کا مجاز فرسٹ کلاس کا مجسٹریٹ ہو گا۔ اس مجوزہ ترمیمی بل کو فوجداری قانون ترمیمی بل 2025 کا نام دیا گیا ہے، ڈپٹی اسپیکر نے بل کو مزید غور کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ میں انسانی بحران ناقابل تصور حدوں تک پہنچ چکا ہے، یورپی ممالک