ایران سے مذاکرات مثبت رہے، بہت سے نکات پر اتفاق ہوا :صدر ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

Apr 12, 2026 | 18:46:PM
ایران سے مذاکرات مثبت رہے، بہت سے نکات پر اتفاق ہوا :صدر ٹرمپ
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت رہے ، بہت سے نکات پر اتفاق ہوا ہے،  نیوکلیئر پروگرام پر اتفاق نہ ہوسکا، آبنائے ہرمز کی فوری ناکہ بندی کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا ہے کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور بین الاقوامی پانیوں میں اُن تمام جہازوں کو بھی روکے گی جنہوں نے ایران کو ٹول ادا کیا ہو، صدر ٹرمپ نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اُس وقت دیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے لکھا ’ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق ہوا، تاہم دونوں فریق ایران کے جوہری پروگرام پر متفق نہ ہو سکے، انہوں نے کہا کہ ’فوری طور پر مؤثر ہونے والے اس فیصلے کے تحت امریکی بحریہ، جو دنیا کی بہترین بحریہ ہے، اُن تمام جہازوں کی ناکہ بندی کا عمل شروع کرے گی جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے۔

صدر ٹرمپ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول لینے کے سخت مخالف ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے اپنی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں اُن تمام جہازوں کو تلاش کر کے روکا جائے جنہوں نے ایران کو ٹول ادا کیا ہے۔ جو کوئی بھی غیر قانونی ٹول ادا کرے گا، اسے سمندروں میں محفوظ راستہ نہیں ملے گا۔

خیال رہے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 21 گھنٹے مسلسل جاری رہنے کے بعد کسی معاہدے کے بغیر ختم ہونے والے مذاکرات کے بعد یہ صدر ٹرمپ کا پہلا بیان ہے، اتوار کی صبح اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے تھے جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکراتی وفد کے ساتھ واپس امریکہ روانہ ہوگئے تھے۔

اتوار کی صبح اسلام آباد کے ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے ’ایک اچھی اور ایک بری خبر‘ کا تذکرہ کیا۔ان کے مطابق ہم نے ایرانیوں کے ساتھ کافی ٹھوس بات چیت کی ہے، یہ اچھی ہے اور بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچے۔

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ خبر امریکہ کے لیے جتنی بری ہے، اس سے کہیں زیادہ ایران کے لیے ہے۔‘ امریکہ کے نائب صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی اور اپنی شرائط واضح طور پر پیش کی ہیں جو کہ ایران نے تسلیم نہیں کیں۔

ان کے مطابق ایرانی وفد کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کوئی واضح عزم سامنے نہیں آیا، دوسری جانب ایرانی وفد کے سربراہ  محمد باقر قالیباف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ مذاکرات سے قبل میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ہمارے پاس ضروری حسنِ نیت اور ارادہ موجود ہے لیکن پچھلی دو جنگوں کے تجربات کی بنیاد پر ہمیں دوسرے فریق پر قطعاً بھروسہ نہیں۔

اُن کے مطابق ایرانی وفد نے مستقبل کے حوالے سے کئی اقدامات اور تجاویز پیش کیں لیکن دوسرا فریق بالآخر مذاکرات کے اس دور میں ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا، اُن کے مطابق امریکہ نے ہماری منطق اور اصولوں کو سمجھ لیا ہے اور اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ آیا وہ ہمارا اعتماد جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :آبنائے ہرمز سے گزر کر پہلا تیل بردار جہاز کراچی پورٹ پہنچ گیا