آبنائے ہرمز سے گزر کر پہلا تیل بردار جہاز کراچی پورٹ پہنچ گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) کراچی پورٹ پر حکام نے آبنائے ہرمز کے راستے آنے والے پہلے تیل بردار جہاز کے پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔ یہ تیل لانے والا جہاز ایران کے خلاف جنگ کے باعث ایک تعطل کے بعد پہنچا ہے۔
کراچی پورٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ اتفاق سے اس تیل بردار جہاز کی کراچی بندرگاہ پر لنگر اندازی کا عمل اس وقت ہوا ہے جب اسلام آباد کی میزبانی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات شروع ہو چکے تھے۔
ایران کے خلاف امریکہ نے آٹھ ماہ کے دوران اپنی دوسری جنگ اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری کو شروع کی تھی۔ تاہم 6 اپریل کواس جنگ میں پاکستان کی کوششوں سے 15 دن کے لیے عارضی جنگ بندی ہو گئی۔ اسی جنگ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے جہازوں کے لیے مکمل بند کر دیا تھا۔
پاکستان کے پرچم کے ساتھ آنے والے تیل بردار جہازوں کو ایران نے آبنائے ہرمز میں نہ روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم جہازوں کی آمد و رفت توقعات کے مطابق جلد نہ ہو سکی۔ اس سے پہلے پاکستانی حکام نے کہا تھا کہ پاکستان کے تیل بردار جہازوں کی بڑی تعداد کو آبنائے ہرمز سے دوسری جانب موڑ دیا گیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی محدود اجازت تھی۔ تاہم اب پہلے تیل بردار جہاز کی ہفتہ کے روز کراچی آمد کی تصدیق کی گئی ہے۔
بندرگاہ سے متعلق عہدیدار شارق امین فاروقی نے بتایا ہے کہ جنگ کی وجہ سے جہازوں کو مقامی بندرگاہوں پر روک دیا گیا تھا اب انہیں نئے سرے سے اپنے راستوں پر روانہ کیا گیا ہے لیکن وہ ابھی آبنائے ہرمز میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: اسلام آباد میں کاروباری مراکز کھولنے کی اجازت