لاہور کا تھیٹر اصلاحات کی نئی راہ پر
تحریر: زین مدنی حسینی
Stay tuned with 24 News HD Android App
شہرِ لاہور کا تھیٹر، جو کبھی ہنر، تفریح اور سنجیدہ مزاح کا مرکز ہوا کرتا تھا، ایک طویل عرصے کے بعد اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ماضی میں تھیٹر اسٹیج سے وہ رنگ، وہ وقار اور وہ ثقافتی تاثر کھو بیٹھا تھا جو کبھی اس کی پہچان ہوا کرتا تھا۔ تاہم، اب منظرنامہ بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ لاہور کے مختلف تھیٹر ہالز میں فلمی کہانیوں پر مبنی ڈرامے پیش کیے جا رہے ہیں، جنہوں نے ناظرین کو ایک مرتبہ پھر تھیٹر کی طرف متوجہ کرنا شروع کر دیا ہے۔
یہ رجحان دراصل اس بات کا مظہر ہے کہ تھیٹر کی دنیا اب وقت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ماضی میں اسٹیج ڈرامے صرف فوری تفریح، ہلکے پھلکے لطائف اور غیر سنجیدہ مزاح تک محدود ہو چکے تھے، جس کے باعث سنجیدہ ناظرین نے تھیٹر سے منہ موڑ لیا۔ مگر اب نئی نسل کے رائٹرز اور ڈائریکٹرز فلمی کہانیوں کے سٹرکچر، میوزک، جذبات اور موضوعات کو تھیٹر کے اسٹیج پر لے کر آ رہے ہیں، جس سے نہ صرف کہانی میں دلکشی پیدا ہو رہی ہے بلکہ ناظرین کی دلچسپی بھی بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب، حکومتِ پنجاب نے تھیٹر انڈسٹری کو اصلاحات کی راہ پر ڈالنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔
محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب نے تھیٹر کی نگرانی کے نظام کو از سرِ نو ترتیب دیا ہے۔ ہر تھیٹر ہال کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ کسی بھی اسٹیج ڈرامے میں غیر اخلاقی حرکات، نامناسب گفتگو یا سماجی اقدار کے خلاف مواد شامل نہ ہو۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ تھیٹر ایک باوقار تفریحی اور ادبی روایت ہے، جسے اصلاح کے بجائے سنوارنے کی ضرورت ہے۔
تھیٹر مالکان اور ڈائریکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر حکومت یہی تعاون جاری رکھے تو تھیٹر دوبارہ اپنا سنہری دور حاصل کر سکتا ہے۔ اب صرف ہنسی مذاق کے بجائے کہانی، جذبات، موسیقی اور پیغام پر توجہ دی جا رہی ہے۔
کئی تھیٹر ہالز میں فلمی کہانیوں پر مبنی ڈرامے جیسے “محبت ایک کہانی”، “زندگی فلم نہیں”، اور “آخری سین” پیش کیے جا رہے ہیں، جو فلمی ماحول اور تھیٹر کی لائیو پرفارمنس کو یکجا کر رہے ہیں۔
شائقین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو لاہور کا تھیٹر ایک بار پھر اہلِ ذوق کی تفریح کا پسندیدہ ذریعہ بن جائے گا۔
حکومتی سختیوں اور نگرانی کے نئے نظام نے جہاں کچھ فنکاروں کو محتاط کر دیا ہے، وہیں اس تبدیلی نے تھیٹر کے معیار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اب امید یہی ہے کہ یہ اصلاحاتی اقدامات محض وقتی نہیں بلکہ ایک مستقل پالیسی کا حصہ ثابت ہوں۔ اگر تھیٹر کے تخلیقی مزاج کو مثبت سمت میں برقرار رکھا گیا تو لاہور ایک بار پھر اسٹیج ڈرامے کا مرکز بن سکتا ہے، جہاں تفریح کے ساتھ ساتھ فن اور فکر کا امتزاج بھی قائم رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں اجتماعات، جلسے، جلوسوں اور احتجاج پر پابندی،دفعہ 144 نافذ