عہدسازنغمہ نگارقتیل شفائی کی آج25ویں برسی

پاکستان کی پہلی فلم’’تیری یاد‘‘کی نغمہ نگاری سے فلمی سفر کا آغاز ہوا،201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کئے

Jul 11, 2026 | 10:51:AM
عہدسازنغمہ نگارقتیل شفائی کی آج25ویں برسی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار)منفردلب ولہجے کے عہدساز نغمہ نگاراورشاعرقتیل شفائی کو دنیا سے رُخصت ہوئے25 برس بیت گئے مگروہ لوگوں کی یادوں میں زندہ ہیں۔

1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم’’تیری یاد‘‘کی نغمہ نگاری سے فلمی سفر کا آغازکرنے کے بعدانہوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کئے،وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنہیں بھارتی فلموں کے لئے بھی نغمہ نگاری کا اعزاز حاصل تھا۔
24 دسمبر 1919ء کو ہری پورہزارہ میں پیدا ہونے والے قتیل شفائی کااصل نام اورنگزیب خان تھا،ادبی تخلص قتیل کے ساتھ اپنے اُستادشفاء کے نام کی مناسبت سے شفائی لگالیااورپھریہی نام پھر ان کی شناخت بن گیاتھا،تیرہ سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کردیئے تھے اورپہلا شعری مجموعہ کلام’’ہریالی‘‘کے نام سے1942ء میں شائع ہواتھا ۔
قیامِ پاکستان سے کچھ عرصہ قبل وہ لاہور منتقل ہوگئے تھے،فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ ان کا ادبی سفر بھی جاری رہا،ان کے شعری مجموعوں میں ہریالی،گجر، جل ترنگ، روزن، گھنگرو، جھومر،چھتنار، پیراہن، برگد، آموختہ، گفتگو، آوازوں کے سائے اور سمندر میں سیڑھی کے نام شامل ہیں۔
قتیل شفائی نے اپنے دور کے تمام چھوٹے بڑے موسیقاروں کی موسیقی میں نغمات تحریر کیے، کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم ’’عجب خان آفریدی‘‘ کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ بھی شامل ہے،ان کی فنی اورادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1994ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کے علاوہ آدم جی ادبی ایوارڈ،امیر خسرو ایوارڈاور نقوش ایوارڈ سے بھی نوازا گیاتھا۔
بھارت کی ایک یونیورسٹی کے پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے پی ایچ ڈی بھی کی تھی،بھارتی ریاست مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں نصاب میں شامل تھیں،ان کے شعری مجموعوں کاچینی،روسی،انگریزی،ہندی اور گجراتی زبانوں میں ترجمہ بھی ہوچکاہے۔

یہ بھی پڑھیں:کلاسیکی موسیقی کی شان استادسلامت علی خاں کوبچھڑے 25برس بیت گئے
قتیل شفائی 11 جولائی 2001ء کولاہور میں انتقال کرگئے تھے اورعلامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے کریم بلاک قبرستان میں آسودہ خاک ہیں،ان کی آب بیتی ان کی وفات کے بعد ’’گھنگروٹوٹ گئے‘‘ کے نام سے شائع ہوئی تھی۔