رافیل طیاروں کی تباہی، بھارت ایک سال بعد بھی وضاحت نہ دے سکا

May 10, 2026 | 09:04:AM
رافیل طیاروں کی تباہی، بھارت ایک سال بعد بھی وضاحت نہ دے سکا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( ویب ڈیسک ) مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی چار روزہ کشیدگی اور فضائی معرکوں کے ایک سال بعد بھی بھارت  اپنی عسکری ناکامیوں اور ممکنہ نقصانات کے حوالے سے واضح مؤقف دینے سے گریزاں دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان نے6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب بھارتی حملوں کے جواب میں بھرپور فضائی اور دفاعی کارروائی کرتے ہوئے متعدد  بھارتی جنگی طیارے مار گرائے تھے،  تباہ کیے گئے طیاروں میں جدید رفال طیارے بھی شامل تھے، جنہیں بھارت اپنی فضائی طاقت کا اہم ستون قرار دیتا تھا۔

بعد ازاں پاک فوج کی جانب سے  آپریشن بنیان المرصوص” کے تحت بھارتی فضائی اڈوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد بھارت نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان نے 26 مختلف مقامات پر حملے کیے تھے۔

دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس، سوشل میڈیا پر   طیاروں کے ملبوں کی ویڈیوز اور تصاویر  سامنے آئیں ،انڈین پنجاب، جموں و کشمیر اور دیگر علاقوں میں جنگی طیاروں کا ملبہ دیکھا گیا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں:مسلسل 3روز بارشیں!محکمہ موسمیات نے خوشی کی خبر سنا دی

دفاعی ماہرین کے مطابق اس جنگ نے خطے میں طاقت کے توازن کے حوالے سے کئی پرانے تصورات بدل دئیے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف جدید فضائی دفاعی صلاحیتوں کا مؤثر استعمال کیا بلکہ محدود وسائل کے باوجود تکنیکی اور حربی برتری بھی ثابت کی۔

کئی عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ بھارتی کی جانب سے مکمل تفصیلات سامنے نہ لانے کی ایک بڑی وجہ اپنی عسکری ساکھ کو پہنچنے والا ممکنہ نقصان ہے۔ خاص طور پر رفال جیسے مہنگے اور جدید طیاروں کے بارے میں پاکستانی دعووں نے عالمی دفاعی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق مئی 2025 کی کشیدگی میں پاکستان نے جس منظم انداز میں ردعمل دیا، اس نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت منوائی بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ تاثر مضبوط کیا کہ پاکستان جدید فضائی جنگ میں مؤثر جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگربھارت واقعی مکمل برتری حاصل کر چکا ہوتا تو وہ اپنے نقصانات کی تفصیلات کھلے انداز میں جاری کرتا، تاہم مسلسل خاموشی اور متضاد بیانات نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔