ایک سال میں 9 لاکھ سے زائد افراد کی کمی,جاپان میں آبادی بحران شدت اختیار کر گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)جاپان میں کم شرح پیدائش ایک سنگین مسئلہ بن گیا جس پر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سے ملک کی معیشت اور سماجی ڈھانچے پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
شرح پیدائش میں مسلسل کمی کے باعث جاپان میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو قومی سلامتی اور معاشی ترقی دونوں کے لیے چیلنج ہے۔
جاپانی وزارت داخلہ کے مطابق صرف 2024 میں آبادی میں 9 لاکھ 10 ہزار سے زائد افراد کی کمی ریکارڈ کی گئی جو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آپریشن سندور،معلوم ہی نہیں تھا پاکستان ایسا جواب دے گا؛بھارتی آرمی چیف
اعداد و شمار کے مطابق جاپان کی تقریباً 30 فیصد آبادی پہلے ہی 65 سال سے زائد عمر کی ہے، جس سے پالیسی ساز اور محققین شدید تشویش میں مبتلا ہیں،جاپانی حکومت شرح پیدائش میں اضافے کے لیے مختلف منصوبوں پر غور کر رہی ہے، جن میں کام اور خاندانی زندگی میں توازن، بچوں کی دیکھ بھال، اور رہائش کی بہتر سہولیات شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا جیسے اقدامات سے جاپان بھی اس بحران پر قابو پا سکتا ہے۔