پاکستان بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کیلئے ڈیجیٹل انسپیکشن سسٹم کا آغاز

Dec 09, 2025 | 18:36:PM
 پاکستان بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کیلئے ڈیجیٹل انسپیکشن سسٹم کا آغاز
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(بابر شہزاد تُرک)پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے پاکستان بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کیلئے ڈیجیٹل انسپیکشن سسٹم کا آغاز کر دیا ہے۔

اس حوالے سے اسلام آباد میں 3 روزہ تربیتی سیشن کا باقاعدہ افتتاح صدر پی ایم اینڈ ڈی سی، پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کیا، انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ 3 روزہ تربیت میڈیکل و ڈینٹل کالجز کے معائنہ کے معیارات کو مضبوط بنانے اور منظوری کے قومی عمل میں ڈیجیٹل تبدیلی کو فروغ دینے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے قومی انسپکٹر پائلٹ ٹریننگ کا باضابطہ آغاز کیا ہے  جس کا مقصد ملک بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کے معائنہ اور منظوری کے عمل کو ڈیجیٹل اور معیاری خطوط پر استوار کرنا ہے،یہ پائلٹ پروگرام ریگولیٹری نظام کی کارکردگی بڑھانے، ڈیجیٹل انسپیکشن ٹیکنالوجی کے انضمام اور اعلیٰ تربیت یافتہ قومی انسپکٹرز کا ایک بااعتماد گروہ تیار کرنے میں معاون ثابت ہوگا تاکہ تعلیم میں معیار، شفافیت اور اصولوں کی پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔

تربیتی سیشن میں ملک کے مختلف صوبوں سے ماسٹر ٹرینرز اور انسپکٹرز نے شرکت کی  جہاں انہیں عملی تربیت فراہم کی گئی، تربیت میں پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل انسپیکشن پلیٹ فارم “Digi-Inspect” کا عملی مظاہرہ اور اپ ڈیٹڈ انسپکٹر گائیڈ کا تفصیلی تعارف شامل تھا۔

تربیت کا بنیادی مقصد ماسٹر ٹرینرز کی تیاری ہے  جو آگے چل کر اپنے اپنے علاقوں اور صوبوں میں مزید تربیتی پروگراموں کی قیادت کریں گے۔ پروگرام میں آج علاقائی سطح پر نفاذ کی منصوبہ بندی اور “Digi-Inspect” سسٹم کی پائلٹ ٹیسٹنگ بھی شامل تھی۔ تربیت میں پروفارما 200 اور 350 کے ابتدائی نفاذ اور فیڈبیک، اور اپ ڈیٹڈ انسپکٹر گائیڈ کا جائزہ، توثیق اور حتمی تشکیل بھی شامل ہے۔

مجموعی طور پر یہ تربیت ٹیکنالوجی کے استعمال سے معائنہ کے معیار اور یکسانیت کو مضبوط کرے گی۔ اس تربیتی پروگرام میں پاکستان بھر سے 60 شرکاء حصہ لے رہےہیں، جن کا تعلق پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور مسلح افواج سے ہے، جس کے باعث قومی سطح پر جامع اور متوازن نمائندگی ممکن ہوئی ہے،  آج تربیتی سیشن کے پہلے روز کے پروگرام میں موضوعاتی مباحثے، ڈیجیٹل سسٹم بریفنگز اور اپ ڈیٹڈ پروفارما اور گائیڈ لائنز سے عملی واقفیت شامل تھی۔

 شرکاء کو دس کثیرالجہتی ٹیموں میں تقسیم کیا گیا جن میں بیسک سائنسز، کلینیکل سائنسز، میڈیکل ایجوکیشن، بائیومیڈیکل انجینئرنگ، اسپتال مینجمنٹ اور سول انجینئرنگ/آرکیٹیکچر کے ماہرین شامل تھے، دوسرے روز یہ ٹیمیں ملک کے دس میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں فیلڈ پر مبنی ڈیجیٹل مشقی معائنہ کریں گی، جہاں وہ پی ایم اینڈ ڈی سی کے معیاری آلات، حقیقی وقت میں Digi-Inspect سسٹم کے استعمال اور ڈیجیٹل پروفارما 350 کے عملی اطلاق کا جائزہ لیں گی۔

 اس مرحلے میں لاجسٹکس، سفری انتظامات و رابطہ کاری کی جانچ، عملی چیلنجز کی نشاندہی اور اداروں کی زمینی سطح پر تعمیل کا تجزیہ بھی شامل ہوگا، تربیتی سرگرمیوں کی نگرانی دس تجربہ کار فیسلیٹیٹرز کریں گے،پروگرام کے دوران شرکاء میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے دورے بھی کریں گے، جہاں وہ ٹیبلٹس اور Digi-Inspect سافٹ ویئر کے ذریعے مشقی ڈیجیٹل معائنہ کریں گے، ڈیجیٹل پروفارما کے استعمال کی عملی تربیت حاصل کریں گے، قبل و بعد تجزیاتی مراحل کا مشاہدہ کریں گے اور نفاذ کے دوران تکنیکی مسائل کے حل پر کام کریں گے۔

 یہ پائلٹ مرحلہ مستقبل میں منظوری کے عمل میں شفافیت، بروقت رپورٹنگ اور شواہد پر مبنی فیصلوں کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا، تیسرے روز پروگرام کا اختتام معائنہ کے نتائج کے مجموعی تجزیے،سکورنگ کے معیارات پر ہم آہنگی، شرکاء کی سیکھنے کی درجہ بندی اور ڈیجیٹل ٹولز و عمل میں بہتری کے لیے جامع فیڈبیک کے ساتھ ہوگا۔

 تین روزہ سرگرمیوں کے نتائج ملک گیر سطح پر ڈیجیٹل انسپیکشن سسٹم کی سفارشات کو حتمی صورت دینے میں معاون ثابت ہوں گے، اس تربیت کے بعد ملک کے مختلف علاقوں جیسے کراچی، کے پی کے، لاہور، بلوچستان، آئی سی ٹی/راولپنڈی اور مسلح افواج کے مراکز میں مزید تربیتی سیشنز منعقد کیے جائیں گے۔

 پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق ادارہ، شفافیت، جدت، مضبوط جانچ کے طریقۂ کار اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کو عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اپنے عزم پر پوری طرح کاربند ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں :  وزیراعظم نے ملکی معاشی اور سیاسی صورتحال پر غور کیلئے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا