ایران کے حملوں کے نقصانات، ایرانی اثاثوں سے ہی مرمت ہوں گے، امریکی منصوبہ سامنےآگیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) امریکی محکمہ خزانہ (US Treasury) ایران کے منجمد اثاثوں کو خلیجی ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور نقصانات کے معاوضے کے لیے استعمال کرنے کے منصوبہ پر سنجیدگی سے عمل کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں مریکی وزارتِ خزانہ ایران کے ان منجمد اثاثوں کو ایران کو ایران کی موجودہ ریجیم کو دینے کی بجائےان اثاثوں کو خلیجی اتحادی ممالک کے نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔
امریکہ کے وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک خصوصی ٹیم کو ایران کے حالیہ ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں کویت اور بحرین میں ہونے والے مالی اور مادی نقصانات کا تخمینہ لگانے کی ہدایت کی ہے۔ ایران کے حملوں سے مستقبل میں ہونے والے ممکنہ نقصانات کے ازالے کے لیے بھی ان ایران کے ان منجمد اثاثوں کے استعمال پر غور کیا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق واشنگٹن کا یہ نیا منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان جاری نازک جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے دوران امریکہ کی طرف سے ایران کی بحری ناکہ بندی کے بعد اپنے خلیج فارس کے اتحادی ممالک کی حمایت کے لئے ایک اور سنجیدہ اقدام ہوگا۔
یہ بھی پرھیں: تل ابیب میں فائرنگ، ایک شخص ہلاک، پانچ زخمی
امریکہ اور ایران کی حالیہ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں امریکی افواج نے ایرانی ساحلی علاقوں میں نسب بعض ریڈاروں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغے۔
کویت نے تصدیق کی ہے کہ ایران سے آج ہونے والے میزائلوں مین سے کچھ رہائشی علاقوں میں گرے ہیں۔ ان میزائلوں کے گرنے سے رہائشی علاقوں میں مالی نقصان ہوا ہے۔
ماضی اور مستقبل کے نقصانات
امریکی حکام کے مطابق یہ فنڈز صرف مستقبل میں ہونے والے کسی ممکنہ نقصان کی تلافی کے لیے نہیں، بلکہ اس وقت جاری جنگ کے دوران خلیجی اتحادیوں (مثلاً متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین) کے انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے ماضی کے نقصانات اور مرمت کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
کون سے اثاثے استعمال ہوں گے؟
میڈیا میں آنے والی رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے جس میں نہ صرف غیر ملکی بینکوں میں موجود منجمد مالیاتی فنڈز شامل ہیں، بلکہ ضبط کیے گئے ایرانی اثاثے (جیسے آئل ٹینکرز یا کرپٹو کرنسی ہولڈنگز) بھی اس ریلیف پیکیج کا حصہ بنائے جا سکتے ہیں