نوجوانوں کیلئے ملازمت اور تکنیکی تربیت حکومت کی اولین ترجیح ہے: وزیراعظم
وزیراعظم سے چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود کی ملاقات،وزیراعظم نے یوتھ پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے کوششوں میں مزید اضافہ کرنے کی ہدایت
Stay tuned with 24 News HD Android App
( اویس کیانی )وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے ملاقات کی،چیئرمین یوتھ پروگرام نے وزیراعظم کو یوتھ پروگرام کے تحت مختلف منصوبوں کی پیشرفت کے حوالے سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے یوتھ پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے کوششوں میں مزید اضافہ کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نوجوان ہماری قوم کا مستقبل ہیں،نوجوانوں کے لیے ملازمت، تعلیم، تکنیکی تربیت اور دیگر مواقع فراہم کرنا حکومت پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی انٹیلی جنس کی ناکامی، حزب اللہ رہنما کے بجائے اپنا ہی حامی مار ڈالا
شہباز شریف نے کہا کہ ہم ملکی نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ میں بہترین افرادی قوت کے طور پر متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔
علاوہ ازیں مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر بجلی کی فراہمی کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی اور حالیہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ملکی برآمدات کی پیشرفت کے حوالے سے اہم اجلاس وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا۔
اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا مناسب حصہ ہونے کی وجہ سے توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا۔
شہباز شریف نے بیٹری توانائی اسٹوریج سسٹم کے منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شمسی توانائی اور دیگر قابل تجدید توانائی کے ذرائع ہی بجلی شعبے کا مستقبل ہیں۔ انہوں نے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو قومی سطح پر مزید وسعت دینے کے لیے جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ عالمی کشیدگی اور چیلنجز کے باوجود خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات جاری ہیں، انہوں نے پی این ایس سی کو سمندری راستے سے ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے بحری جہازوں کا انتظام کرنے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود کامیاب سفارتکاری سے خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات کی رسد یقینی بنائی گئی ہیں،اجلاس میں وزیراعظم کو بجلی کی پیداوار کے حوالے سے طویل مدتی لائحہ عمل، حالیہ عالمی صورتحال میں ملکی برآمدات کے لئے مواقع اور درپیش چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں:اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین ریاض قریشی کلرکہارسے گرفتار
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت بجلی کی کل پیداوار میں 55 فیصد حصہ قابل تجدید ذرائع اور 45 فیصد حصہ حیاتیاتی (fossil) ایندھن کا ہے جب کہ اگلے 10 سال میں بجلی کی قابل تجدید ذرائع سے پیداوار 90 فیصد تک، جب کہ حیاتیاتی ایندھن سے پیداوار 10 فیصد تک لے جانے کے لیے منصوبہ بندی پر کام جاری ہے۔
شرکا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر ملکی برآمدات کے لیے سہولت پیدا کرنے کے لیے خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی کوششیں جاری ہیں، خلیجی ممالک میں پاکستانی زرعی اجناس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا ڈاکٹر احسن اقبال، رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، ، سردار اویس احمد لغاری، جنید انور چوہدری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی ہارون اختر اور طارق باجوہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
مزید پڑھیں:مارجن بڑھائیں نہیں تو پمپس بند! پٹرول پمپ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے دھمکی دیدی
دریں اثناءنیشنل ٹیرف کمیشن کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اہم اجلاس وزیراعظم کی زیرصدارت ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ ادارے کی تنظیم نو، فعال کارکردگی، صنعتی فروغ اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے تمام آپریشنل فنکشنز کی ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت، معیاری اصلاحات اور کیسز کو معینہ مدت میں نمٹانے کا حکم دیا، انہوں نے کہا کہ قانونی پیچیدگیوں کا خاتمہ، ایپلٹ ٹریبونل کی بہتری اور صنعت کاروں کی سہولت کے لیے اقدامات یقینی بنائیں۔