پنجاب اسمبلی اجلاس ،ترمیمی آرڈیننس سمیت چار مسودات قوانین ایوان میں پیش

Apr 06, 2026 | 22:28:PM
پنجاب اسمبلی اجلاس ،ترمیمی آرڈیننس سمیت چار مسودات قوانین ایوان میں پیش
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حکومت نے آرڈیننس سمیت چار مسودات قوانین ایوان میں پیش کر دئیے جنہیں متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا ، اجلاس میں مختلف اداروں سے صحافیوں کو نکالے جانے کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت کی بجائے ایک گھنٹہ 17منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا۔

حکومت کی کفایت شعاری مہم کے باوجود ہال کے ائیر کنڈیشنڈ اور روشنیاں چلتی رہیں، اجلاس میں صوبائی وزیر کاظم پیرزادہ نے محکمہ آبپاشی سے متعلق سوالوں کے جوابات دئیے ۔اجلاس کے دوران پنجاب اسمبلی پریس گیلری کی طرف صحافتی اداروں سے ملازمین کو نکالے جانے کے خلاف ٹوکن واک آئوٹ کیا گیاجس پر سپیکر ملک محمد احمد خان نے صحافی ورکرز کی برطرفی کے خلاف قرارداد لانے کی ہدایت کی۔

واک آئوٹ کے دوران صحافیوں نے اسمبلی کی سیڑھیوں پر احتجاج کیا،اپوزیشن رکن رانا آفتاب کے سوال کے میں وزیر آبپاشی کاظم پیرزادو نے بتایا کہ پنجاب میں محکمہ آبپاشی کے 412ریسٹ ہائوسز ہیں،ایک سال میں تین لاکھ اکہتر ہزار روپے جمع ہوئے ،اب ہم سختی کرنے جارہے ہیں کہ جو لوگ یہاں ٹھہریں وہ پیسے ادا کریں،ان ریسٹ ہائوسز میں پارلیمان اور محکموںکے لوگ جاتے ہیں ،ہم سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگانے جارہے ہیں۔

رانا آفتاب احمد نے ناجائز ٹریفک چالانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میرے چار چالان ہو گئے ہیں ،متعلقہ محکمہ کہتا ہے چالان پر نظر ثانی کریں گے اگر غلط ہوئے تو ختم کردیں گے،جب انصاف نہیں ملے گا تو کیا ایوان میں بات بھی نہ کریں، انہوں نے سوال اٹھایا سی سی ڈی کیوں بنانی پڑی جس پر ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ نے کہا کہ سی سی ڈی کا سارے صوبہ کو فائدہ ہوا ہے۔

صوبائی وزیر صہیب بھرت نے کہا کہ اداروں کو سب نے مل کر مضبوط کرنا ہے،اجلاس میں پنجاب لیگل ایڈ (ترمیمی)آرڈیننس 2026 ،صوبائی ملازمین سوشل سکیورٹی (ترمیمی)بل 2026 ، دی رجسٹریشن (ترمیمی) بل 2026 اورپبلک سیکٹر یونیورسٹیز (ترمیمی)بل 2026 پیش کئے گئے ۔پینل آف چیئرپرسن سمیع اللہ خان نے تمام مسودات متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کرتے ہوئے دو ماہ میںرپورٹ طلب کرلی۔

امن و امان کی صورتحال پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف معین ریاض قریشی نے ایران امریکہ اسرائیل جنگ سے پیدا ہونے والی معاشی صورتحال پر حکومت کو آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کواپوزیشن کے ساتھ بیٹھنا چاہئے۔ایوان میں کسی حکومتی رکن نے امریکہ اسرائیل کی مذمت نہیں کی،میاں اسلم کو آج تک حلف اٹھانے نہیں دیا گیا،ان کی والدہ کی وفات ہوگئی وہ اپنی مری ماں کا منہ نہیں دیکھ سکے،کیاآپ ایسی جمہوریت پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔

اعجاز چوہدری کو ہر دس دن بعد گردوں کا ٹیسٹ کروانا ہوتا ہے،ایران پر حملے کے خلاف حکومتی وزیر قرارداد نہیں لے کر آیا،مسلم لیگ (ن)کے چیف وہپ رانا ارشد نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حالات ماضی کی نسبت بہت بہتر ہیں، دشمن نے حملہ کیا تو اس کے دانت کھٹے کر دیئے ،سپہ سالار اور وزیر اعظم سمیت پوری قیادت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،ہم ایران کے ساتھ ہیں،ہمارے دل ایرانی عوام کے ساتھ دل دھڑکتے ہے ،سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کو پاکستان حکومت نے کم کرایا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان زندہ باد کہا اور اسلام آباد میں مذاکرات کی حمایت کی، انہوں نے کہا کہ عالیہ حمزہ کو عدالت سے سزا ہوئی ،اگر غلط ہے تو عدالت سے رجوع کریں ،اعجاز چوہدری کو صحت سے متعلق تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔ انہوںنے کہا کہ آج کچے کے علاقے میں امن آگیا ،سکول کھل گئے ہے ،ہم ماضی کے واقعات نہیں دہرائیں گے بلکہ مثبت کردار ادا کریںگے ۔

پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں صحافتی اداروں میں صحافیوں کی برطرفی کے خلاف قرارداد متفقہ طورپر منظور کر لی گئی، قرارداد حکومتی رکن افتخار چھچھر نے ایوان میں پیش کی۔حکومتی رکن احسن رضا نے بانی پی ٹی آئی پر سخت تنقید کی جس پر اپوزیشن ارکان نے شور شرابا شروع کردیا۔ایجنڈا مکمل ہونے پر پنجاب اسمبلی کااجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان کا تیار کردہ جنگ بندی کا منصوبہ امریکا اور ایران کو موصول ہوگیا