پنجاب حکومت نے انسدادِ دہشت گردی ترمیمی بل 2026کی منظوری دیدی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(راؤ دلشاد)پنجاب اسمبلی نےانسدادِ دہشت گردی پنجاب ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی، بل پارلیمانی سیکرٹری برائے پارلیمانی امور خالد محمود رانجھا نے ایوان میں پیش کیا۔
اپوزیشن کی جانب سے بل میں پیش کی گئیں تمام ترامیم یکسر مسترد کردی گئیں، بل میں دہشت گردی کے مقدمات میں ججز، پراسیکیوٹرز، تفتیش کاروں اور گواہوں کو درپیش خطرات کے پیش نظر قانونی نظام مضبوط بنایاجاسکے گی۔
متن کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالتوں میں محفوظ اور شناخت ظاہر کیے بغیر ٹرائل کی راہ ہموار ہو گئی،بل کے تحت انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کو محفوظ ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹرائل اور دیگر عدالتی کارروائیاں کرنے کا اختیار دےدیاگیا۔
دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں تمام فریقین کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی،مجوزہ ترمیم کا مقصد دہشت گردی کے مقدمات میں محفوظ عدالتی کارروائی اور شرکاء کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
بل میں منصفانہ ٹرائل، انسانی وقار اور شہریوں کی سلامتی سے متعلق آئینی ضمانتوں کو برقرار رکھنے پر زوردیا گیا، موجودہ انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کا قانونی فریم ورک ہائی سکیورٹی مقدمات میں محفوظ کارروائی کے لیے ناکافی ہے۔
متن کے مطابق خصوصی سکیورٹی مقدمات کی کارروائی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کیاجاسکے گا،خصوصی سکیورٹی مقدمات میں ویڈیو کانفرنسنگ اور الیکٹرانک لنکس استعمال کیے جائیں گے،خصوصی سکیورٹی مقدمات کی کارروائی آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے ریکارڈ کی جائے گی۔
ججز، وکلا، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران اور گواہوں کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے وائس موڈیفکیشن ٹیکنالوجی استعمال ہوگی، خصوصی سکیورٹی مقدمات کی سماعت محفوظ مقامات پر ہوسکے گی,محفوظ عدالتی مقامات تک صرف متعلقہ ججز، وکلا، پراسیکیوٹرز، گواہوں اور دیگر متعلقہ افراد کو رسائی ہوگی.
متن کے مطابق خصوصی سکیورٹی مقدمات میں تمام متعلقہ افراد کے تحفظ کے لیے خصوصی سکیورٹی آلات اور انتظامات کیے جائیں گے،سکیورٹی اور لاجسٹک مسائل کے باعث خصوصی سکیورٹی مقدمات جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے چلانے کی اجازت ہوگی،جیل سے مقدمات کی ورچوئل کارروائی کے دوران ججز، وکلا، پراسیکیوٹرز اور گواہوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
حکومت خصوصی سکیورٹی مقدمات کے تحفظ کے لیے مزید مناسب اقدامات بھی کر سکے گی، خصوصی سکیورٹی مقدمات سے متعلق یہ شق اپیلٹ عدالتوں کی کارروائی پر بھی لاگو ہوگی،خصوصی سکیورٹی مقدمات کے لیے حکومت گریڈ 20 یا مساوی عہدے سے کم نہ ہونے والے افسر کو نامزد کرے گی۔
خصوصی سکیورٹی مقدمات کے نامزد اتھارٹی کے افسر کی تفصیلات خفیہ رکھی جائیں گی، نامزد اتھارٹی لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد اپنے فرائض انجام دے گی،نامزد اتھارٹی طے کرے گی کہ کون سا مقدمہ غیر معمولی حفاظتی اقدامات کا متقاضی ہے،نامزد اتھارٹی حکومتی اداروں کے ساتھ مشاورت اور رابطہ کاری کے ذریعے ترمیمی قانون پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔
متن کے مطابق نامزد اتھارٹی قانون پر عملدرآمد کے لیے ضروری احکامات اور ہدایات جاری کر سکے گی، مجوزہ شق کے تحت خصوصی سکیورٹی مقدمات میں شناخت اور کارروائی کی رازداری کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :بھارت: سوشل میڈیا انفلوئنسر کا اغوا، تشدد کے بعد آگ لگا دی گئی؛ 2 ماہ بعد موت