گوہر اعجاز نے بھاری ٹیکسز کو معاشی تباہی قرار دے دیا

 ٹیکس وصولیوں اور جی ڈی پی میں تضاد سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں ،چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ 

Nov 05, 2025 | 16:16:PM
گوہر اعجاز نے بھاری ٹیکسز کو معاشی تباہی قرار دے دیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(وقاص عظیم)چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ گوہر اعجاز نے بھاری ٹیکسز کو معاشی تباہی قرار دے دیا ۔
اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ نے بھاری ٹیکسز سے متعلق رپورٹ بھی جاری کر دی ہے۔

چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ گوہر اعجاز نے کہاہے کہ ٹیکسوں کا بھاری بوجھ معاشی تباہی کا راستہ ہے، حکومت 2028 میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 18 فیصد کرکے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالنا چاہتی ہے، حالیہ برسوں میں تنخواہ داروں اور کاروباری افراد سے بھاری ٹیکسز وصول کیے گئے جوحکومتی دعوؤں اور حقائق میں کھلا تضاد ہے ۔
ڈاکٹر گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ حکومت دعویٰ کر رہی ہے ٹیکس اہداف کے لیے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، دراصل حکومت ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالنا چاہتی ہے، حکومت معیشت سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کر رہی ہے، کمزور معیشت پر بھاری ٹیکسز کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
 گوہر اعجاز نے مزیدکہا کہ حالیہ برسوں میں تنخواہ داروں اور کاروباری افراد سے بھاری ٹیکسز وصول کیے گئے ،تین برسوں میں کاروباری گروپس سے 131 فیصد اضافی ٹیکسز وصول کیے گئے ،بزنسز سے ٹیکس وصولیاں 2.2 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 5.3 ٹریلین روپے ہو چکی ہیں، تنخواہ داروں سے ٹیکس وصولیاں 206 فیصد بڑھ چکی ہیں اور تنخواہ داروں سے ٹیکس وصولیاں 188 ارب روپے سے بڑھ کر 580 ارب روپے تک پہنچ چکی ہیں۔
 گوہر اعجاز نے کہا کہ ایف بی آر جان بوجھ کر ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 10 فیصد ظاہر کر رہا ہے ،درحقیقت ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 12 فیصد تک پہنچ چکی ہے ،ایف بی آر پیٹرولیم لیوی کی مد میں کی گئی وصولیوں کو شمار نہیں کر رہا ،ٹیکسوں کا بوجھ 10 فیصد سے بڑھ کر 12.2 فیصد ہو چکا ہے ،تین سال میں پیٹرولیم لیوی وصولیوں میں 760 فیصد اضافہ ہوا جو 135سے بڑھ کر 1160 ارب روپے تک پہنچ چکی ہیں۔
 گوہر اعجاز نے کہا کہ گمراہ کن ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا دعویٰ عوام سے مزید ٹیکس وصول کرنے کی عکاسی کرتا ہے ،ایف بی آر جھوٹے دعووں کے ذریعے ٹیکس ادا نہ کرنے والے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ذمہ داری سے بھاگ رہا ہے، پاکستان کی جی ڈی پی چار فیصد سے کم رہی ہے جبکہ ٹیکس وصولیاں اوسط 20 سے 30 فیصد سالانہ بڑھ رہی ہیں، ٹیکس وصولیوں اور جی ڈی پی میں بہت بڑا تضاد ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹریفک جرمانے بڑھانے کی منظور ی دے دی
گوہر اعجاز نے کہا کہ ٹیکس وصولیوں اور جی ڈی پی میں تضاد سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں ،ملک میں انفارمل اکانومی بڑھ رہی ہے، بھاری ٹیکسز کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کو چھوڑ کر جا رہے ہیں، ایف بی آر کے غیر حقیقی ٹیکس اہداف مقرر کیے جا رہے ہیں، ٹیکس گزاروں پر سزائیں نہ لگائی جائیں ،معاشی شرح نمو بڑھانے کے لیے ٹیکسز میں کمی کی جائے ،بھاری ٹیکسز نے تنخواہ داروں اور کاروباری شخصیات کی کمر توڑ دی ہے۔