27ویں آئینی ترمیم کو لے کر گھمسان کا رن پڑنے والا ہے:سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے کچھ مقاصد پوشیدہ جبکہ کچھ ظاہری ہیں، یوں لگتا ہے کہ ستائیسویں ترمیم کو لیکر گھمسان کا رن پڑنے والا ہے، پارلیمنٹ کے اندر بھی اور پارلیمنٹ کے باہر بھی۔
معروف پروگرام ’’سلیم بخاری شو‘‘ میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئین میں مجوزہ ترامیم اگر منظور کرلی گئیں تو یہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے خاتمے کے مترادف ہوں گی۔
انہوں نے بتایا کہ 2019 میں بھی پی ٹی آئی حکومت کے دور میں اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنے کی سازش کی گئی تھی، 2010 میں منظور کردہ 18ویں ترمیم نے صوبوں کے خدشات دور کرتے ہوئے کئی وفاقی وزارتیں اور محکمے صوبوں کو منتقل کر دیئے تھے، جن میں تعلیم اور آبادی کے محکمے بھی شامل تھے۔
انہوں نے پیپلزپارٹی کے حوالے سے کہا کہ حکومت کی اتحادی جماعت ہونے کے ساتھ ایک بہت اچھی طرح کا بھاؤ تاؤکرنے کی ماہر جماعت ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ لیں الیکشن کے بعد جس طرح آئینی عہدوں کا حصول یقینی بنایا ہے یہ موقع بھی وہ کبھی بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے، اسی لیے ابھی سے بلاول بھٹو زرداری نے آنکھیں دکھانی شروع کر دی ہیں۔
بلاول نے بولنا شروع کر دیا ہے، رضا ربانی نے شور مچانا شروع کر دیا ہے اور زرداری صاحب خاموش ہیں، مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا، آگے آگے اور آوازیں اٹھتی ہوئی سنائی دیں گی اگر اس قسم کی آوازیں اپوزیشن سے آئیں تو سمجھ آتی ہے لیکن اگر حکومتی اتحادی کی جانب سے ایسی آوازیں آنا شروع ہو جائیں تو اس کا مطلب کچھ گڑ بڑ ضرور ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ جب امن معاہدہ ہو چکا تو اب فلسطین میں اقوام متحدہ کی فورس کا کیا مقصد ہے انہوں نے کہا امن معاہدے کے وقت یہ اواز اٹھی تھی کہ اب جو بھی غزہ میں اقدامات کیے جائیں گے ان کو اقوام متحدہ کی سرپرستی حاصل ہوگی۔
انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا حوالہ بھی دیا کہ جس میں ایک سوال کے جواب میں انہوں کہا تھا کہ کیا پاکستان فلسطین میں اپنی فوجیں بھیجے گا تو ان کا موقف تھا کہ جب تک اس فورس پر کسی بین الاقوامی فورم کا کور ہو گا۔ یہ اشارہ واضح طور پر اقوام متحدہ کی طرف تھا۔اب ایک ذرائع کے مطابق امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ سے غزہ میں عالمی سیکیورٹی فورس کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جس کے تحت امریکا اور دیگر شریک ممالک کو غزہ کے نظم و نسق کے لیے 2027 کے اختتام تک سیکیورٹی فورس تعینات کرنے کا وسیع اختیار طلب کیا ہے، اور اس مدت میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
معروف تجزیہ کار نے کہا کہ یہ فورس ’غزہ بورڈ آف پیس‘ کے مشورے سے قائم کی جائے گی، جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ایک رپورٹ کے مطابق یہ بورڈ بھی کم از کم 2027 کے اختتام تک قائم رہے گا۔
بخاری صا حب نے کہا کہ جس طرح امریکہ نے فلسطینیوں کے حق میں پاس ہونے والی چھ قراردوں کا ویٹو کیااسی طرح یہ قرار داد جو اب پیش ہونے جارہی ہے روس اور چین کو چاہیے کہ وہ یہ قرداد بھی کسی صورت پاس نہ ہونے دے۔
غزہ کی صورتحال پر استنبول میں ترکیہ میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری کیا گیا مشترکہ اعلامیہ پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حماس بھی ابھی اسی بات پر اٹکا ہو ا ہے کہ فلسطین پر صرف فلسطینی ہی حکومت کر سکتے ہیں۔
استنبول اجلاس میں یہی بات طیب اردوان نے بھی دہرائی ہے اور ترکیہ کے وزیر خارجہ نے بھی کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا جو معاہدہ طے پایا تھا،اس کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر اتفاق ہوا تھا، یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس امن منصوبے کا پہلا مرحلہ تھا جس کا مقصد غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔
یہ 8 عرب و مسلمان ممالک میں شامل تھے جنہوں نے اس منصوبے پر ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا،یہ وہ معاہدہ نہیں جس پر اب یہ قیادت استنبول اعلامیہ میں ان نکات پر اصرار کر رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی ہے، نئے سروے میں اکثریت نے ملک کے غلط سمت میں جانے کا خدشہ ظاہر کیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی سے عوام کی اکثریت ناخوش ہے،بخاری صا حب نے ٹرمپ کی الیکشن کمپین کا حوالہ دیا جس میں انکا نعرہ تھا میک امریکہ گریٹ اگین لیکن یہ کیاایک دم سے حالات پلٹ گئےانہوں نے ایک تازہ عوامی سروے کا حوالہ دیتے ہوئےکہا جس کے مطابق 60 فی صد امریکیوں نے صدر ٹرمپ کے طرزِ حکمرانی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، جب کہ صرف 41 فی صد نے ان کی کارکردگی کو سراہا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس منفی رجحان کے باوجود ڈیموکریٹک پارٹی بھی عوامی ناپسندیدگی سے بچ نہیں سکی۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے حوالے سے تو یہ بڑی مایوس کن صورتحال ہے۔
اس سروے کے مطابق 67 فی صد افراد کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت غلط سمت میں جا رہا ہے۔ اسی طرح 75 فی صد امریکی حکومت کی بندش سے متعلق تشویش ظاہر کر رہے ہیں، جو اس سے قبل کیے گئے سروے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔بخاری صاحب نے ٹرمپ کے مواخذے کے حوالے سے کہا کہ امریکی جمہوری نظا م میں اس کی گنجائش ہے لیکن ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایسا ہونے جارہا ہے یہ کہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں :27ویں آئینی ترمیم پر تمام جماعتوں کا متفق ہونا ضروری ہے:عامر حسن