27ویں آئینی ترمیم پر تمام جماعتوں کا متفق ہونا ضروری ہے:عامر حسن

Nov 04, 2025 | 23:57:PM
27ویں آئینی ترمیم پر تمام جماعتوں کا متفق ہونا ضروری ہے:عامر حسن
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)پیپلزپارٹی کے رہنما بیرسٹر عامر حسن نے کہا کہ کے بارے میں جو بلاول بھٹو نے ٹوئٹ کیا اتنا ہی پتہ ہے یہ نہیں پتہ27ویں آئینی  ترمیم میں کتنی شقیں  تبدیل ہو رہی ہیں۔

پروگرام گونج مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے  ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما بیرسٹر عامر حسن نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئین بنانے والی جماعت ہے اور سب سے زیادہ آئین میں ترمیم بھی پیپلز پارٹی نے ہی کی ہیں۔

بیرسٹر عامر حسن نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی وقتی فائدے کے لیے آئین میں ترمیم نہیں کرتی کیونکہ آئین میں ترمیم وقتی نہیں ہوتی، آئین میں ترمیم ایک لمبے عرصے کے لیے کی جاتی ہے، اسی لیے تمام سیاسی جماعتوں کا متفق ہونا ضروری ہے ورنہ کوئی بھی آئینی ترمیم دیرپا نہیں ہوتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی نے اٹھارویں ترمیم کی تھی تو اس وقت بھی تمام صوبے اس بات پر متفق تھے کے صوبوں کا با اختیار کیا جائے ۔

چھبیسویں ترمیم کے وقت صرف تحریک انصاف اور مولانا فضل الرحمان کے کہنے پر آئینی عدالت کو آئینی بینچ میں تبدیل کیا گیا جب کے پیپلزپارٹی آئینی عدالت کے حق میں تھی۔

پروگرام میں شریک پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت نے کرنی ہوتی ہے ابھی تو کوئی بل ہی پیش نہیں ہوا جس پر باتیں ہو رہی ہیں، ہم کابینہ کا حصہ ہیں اور ہمیں بھی نہیں پتہ کہ کوئی آئینی ترمیم کا بل آ رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما سید علی بخاری نے کہا کہ میں حیران ہوں کے حکومتی جماعت کو آئینی ترمیم کے بارے میں ہی نہیں پتہ پھر یہ کیسی پارٹی ہے جس کو کسی چیز کا پتہ ہیں نہیں میں آج چار حکومتی لوگوں سے مل چکا ہوں جو یہ ہی بات کر رہے ہیں کہ انہیں اس بارے میں کچھ نہیں پتہ، تبھی تو ہم کہتے ہیں کہ یہ حکومت عوامی نہیں جو آئینی ترمیم کرے ان کے پاس مینڈیٹ ہی نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ حکومت آئین سے کھلواڑ کرنے جا رہے ہیں اور جو کچھ بویا جا رہا ہے اس کو جب کاٹنے کی باری آئے گی تو لگ پتہ جائے گا۔