خیبرپختونخوا حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی:وزیراعلیٰ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ پندرہ نکاتی ایجنڈے میں واضح کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں

Jan 05, 2026 | 23:42:PM
خیبرپختونخوا حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی:وزیراعلیٰ
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک رحمان )وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ پندرہ نکاتی ایجنڈے میں واضح کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،خیبر پختونخوا حکومت کا بھی یہی واضح موقف ہے کہ ملٹری آپریشن مسائل کا حل نہیں۔

 صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے صوبے پر مسلط کیے گئے تو تمام اسٹیک ہولڈرز میں تشویش پیدا ہوگی، ایک فرد یا ایک ادارہ زور زبردستی صوبے پر فیصلے مسلط نہیں کر سکتا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا  نے کہا کہ زبردستی فیصلوں کے نتائج وہ نہیں ہوں گے جو فیصلہ کرنے والے چاہتے ہیں،  امن خیبر پختون خواہ اور پورے پاکستان کی مشترکہ ضرورت ہے،پائیدار اور مستقل امن کے لیے جامع اور ہمہ گیر پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے تمام اداروں، سیاسی و مذہبی جماعتوں اور قبائلی مشران پر مشتمل جامع پالیسی ناگزیر ہے، تمام فریق مل کر بیٹھیں گے تو مؤثر پالیسی بنے گی اور امن بحال ہوگا، بند کمروں کے فیصلوں سے نہ امن بحال ہوگا اور نہ ہی عوام کا اعتماد قائم ہوگا،صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی،

دریں اثنا خیبر پختونخواہ اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبہ فکر کے نمائندوں پر مشتمل گرینڈ امن جرگہ منعقد کیا گیا جس کے دوران متفقہ طور پر پندرہ نکاتی ایجنڈے کی منظوری دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں :دبئی پولیس نے جعلی ورک ویزا اسکیم کے متعلق وارننگ جاری کر دی