مودی اور پیوٹن کا پیار بڑھ گیا،بھارت کو روسی تیل کی بندش پر ٹرمپ کو کرارا جواب
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) روس کے صدر ولادی میر پیوٹن ان دنوں بھارت کا دورہ کر رہے ہیں، وہ اپنے دوررہ میں دفاع کے ساتھ ساتھ تجارتی سودے بھی لے کر آئے ہیں۔روسی صدراور بھارتی وزیراعظم مودی کی مشترکہ کانفرنس میں صدر پیوٹن نے کہا کہ وہ بھارت کی طرف سے روسی تیل کی بلا تعطل خریداری کو یقینی بنائیں گے۔ دراصل یہ امریکی صدر ٹرمپ کے اس دعوے کا جواب ہے کہ بھارت جلد ہی روسی تیل کی خریداری بند کر دے گا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے بھارت سے روسی تیل کی خریداری کے حوالے سے اہم اعلان کیا ہے۔ پیوٹن نے کہا کہ بھارت کو تیل کی بلا تعطل ترسیل جاری رہے گی۔ صدر پیوٹن نے کہا کہ ہم بڑھتی ہوئی بھارتی معیشت کے لیے ایندھن کی بلا تعطل ترسیل جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک نے کھاد اور فوڈ سیفٹی سے لے کر شپنگ اور میری ٹائم لاجسٹکس تک مختلف شعبوں میں معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور روس نے 2030 تک تجارت بڑھانے کے لیے اقتصادی تعاون کے پروگرام پر اتفاق کیا ہے۔اس ہفتے کے شروع میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس کو امید ہے کہ وہ بھارت کو اپنی تیل کی برآمدات میں دوبارہ اضافہ کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مغربی پابندیوں کی وجہ سے موجودہ زوال کو عارضی سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ایئر لائن میں پائلٹوں کا بحران، ہزاروں مسافر ایئرپورٹس پر پھنس گئے
روس اور یوکرائن کےدرمیان ہونیوالی جنگ کے بعد بھارت روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار بن گیا۔ تاہم حال ہی میں امریکہ نے روس کی تیل پیدا کرنے والی بڑی کمپنیوں روزنیفٹ اور لوکوئیل پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس کی وجہ سے بھارت نے خام تیل کی درآمد میں کمی کی ہے۔ جس کے بعد یورپ نے بھی روسی خام تیل سے بنی پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔2023-24 میں بھارت اور روس کے درمیان دو طرفہ تجارت$65.70 بلین تھی، جس میں$4.26 بلین کی بھارتی برآمدات اور $61.44 بلین کی درآمدات شامل ہیں۔ دونوں ممالک کا مقصد 2030 تک دوطرفہ تجارت کو 100 بلین ڈالر تک پہنچانا ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کے ممالک میں فلمی میلے منعقد کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت میں ایک روسی ٹی وی چینل کی نشریات کے آغاز کا ذکر کیا۔ اس سے بھارت کو روس کے بارے میں مزید جاننے میں مدد ملے گی۔ ہم نے کچھ عالمی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا اور ایک کثیر قطبی عالمی نظام پر زور دے رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ برکس کے بانی ارکان کے طور پر بھارت اور روس نے بہت کام کیا ہے۔ اگلے سال بھارت برکس کی سربراہی کرے گا، اور ہم بھارت کی ہر طرح سے حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سٹاک میں مثبت آغاز، ہنڈرڈ انڈیکس میں 802 پوائنٹس اضافہ